Kishwar Naheed

کشور ناہید

پاکستانی شاعرہ ، اپنے تانیثی خیالات اور مذہبی کٹرپن کی مخالفت کے لئے مشہور

Renowned woman poet from Pakistan known for her bold views on women and her strong stand against religious fundamentalism.

کشور ناہید کی غزل

    ہم کہ مغلوب گماں تھے پہلے

    ہم کہ مغلوب گماں تھے پہلے پھر وہیں ہیں کہ جہاں تھے پہلے خواہشیں جھریاں بن کر ابھریں زخم سینے میں نہاں تھے پہلے اب تو ہر بات پہ رو دیتے ہیں واقف سود و زیاں تھے پہلے دل سے جیسے کوئی کانٹا نکلا اشک آنکھوں سے رواں تھے پہلے اب فقط انجمن آرائی ہے اعتبار دل و جاں تھے پہلے دوش پہ سر ...

    مزید پڑھیے

    خوش بیاباں میں مگر شہر میں ڈرنا اس کا

    خوش بیاباں میں مگر شہر میں ڈرنا اس کا کاسہ ہاتھوں میں لیے گھر میں بھی پھرنا اس کا دل دکھا کے کبھی ہنسنا کبھی رونا اس کا میرے آنگن میں لکھا تھا نہیں بسنا اس کا اس نے تنہائی میں بھی انجمن آرائی کی چاند نے دیکھ لیا آنکھوں کو بھرنا اس کا میں نے دیکھا ہے سر شام اداسی کا خرام پاؤں میں ...

    مزید پڑھیے

    عشق کی گم شدہ منزلوں میں گئی

    عشق کی گم شدہ منزلوں میں گئی زندگی لوٹ کر دلدلوں میں گئی یاس و حسرت بھری بے اماں زندگی آس کے ریشمی آنچلوں میں گئی وہ صدا جو فغاں بن کے اٹھی مگر خامشی کے گھنے جنگلوں میں گئی تم سے ہو کر جدا یک نفس دوستو زندگی مرگھٹوں ،دلدلوں میں گئی کون جانے کہ اڑتی ہوئی دھوپ بھی کس طرف کون سی ...

    مزید پڑھیے

    ہم نے کہنے کو تمہیں دل سے بھلایا ہوا ہے

    ہم نے کہنے کو تمہیں دل سے بھلایا ہوا ہے بس یہی داغ ہے سینے میں چھپایا ہوا ہے اب گرے گی بھی تو کیسے کہ بہت صبر کے ساتھ ہم نے دیوار کو ہاتھوں سے بنایا ہوا ہے بات کرنے کو بہت دیر سے سوچا اس سے جس کی تحریر کو آنکھوں میں بسایا ہوا ہے چشم بے عیب میں اس کا ہی سراپا کیوں تھا جس کا غم حد ...

    مزید پڑھیے

    ترے قریب پہنچنے کے ڈھنگ آتے تھے

    ترے قریب پہنچنے کے ڈھنگ آتے تھے یہ خود فریب مگر راہ بھول جاتے تھے ہمیں عزیز ہیں ان بستیوں کی دیواریں کہ جن کے سائے بھی دیوار بنتے جاتے تھے ستیز نقش وفا تھا تعلق یاراں وہ زخمۂ رگ جاں چھیڑ چھیڑ جاتے تھے وہ اور کون ترے قرب کو ترستا تھا فریب خوردہ ہی تیرا فریب کھاتے تھے چھپا کے ...

    مزید پڑھیے

    ہر نقش پا کو منزل جاں ماننا پڑا

    ہر نقش پا کو منزل جاں ماننا پڑا مدت کے بعد جب بھی ترا سامنا پڑا اکثر نقاب ضبط ہمیں تھامنا پڑا جب بھی فصیل شب کو ہمیں پھاندنا پڑا ہر بار بھولنے کو غموں کی اذیتیں ہر رشتۂ امید نیا باندھنا پڑا ہر آرزو سے ہم کو ملی تازہ زندگی ہر آرزو کا ہم کو لہو چاٹنا پڑا کی تھی حرام خودکشی میرے ...

    مزید پڑھیے

    دل کو بھی غم کا سلیقہ نہ تھا پہلے پہلے

    دل کو بھی غم کا سلیقہ نہ تھا پہلے پہلے اس کو بھی بھولنا اچھا لگا پہلے پہلے دل تھا شب زاد اسے کس کی رفاقت ملتی خواب تعبیر سے چھپتا رہا پہلے پہلے پہلے پہلے وہی انداز تھا دریا جیسا پاس آ آ کے پلٹتا رہا پہلے پہلے آنکھ آئنوں کی حیرت نہیں جاتی اب تک ہجر کا گھاؤ بھی اس نے دیا پہلے ...

    مزید پڑھیے

    بگڑی بات بنانا مشکل بڑی بات بنائے کون

    بگڑی بات بنانا مشکل بگڑی بات بنائے کون کنج تمنا ویرانہ ہے آ کر پھول کھلائے کون تن کی دولت من کی دولت سب خوابوں کی باتیں ہیں نو من تیل نہ ہو تو گھر میں رادھا کو نچوائے کون اپنا غم اب خود ہی اٹھا لے ورنہ رسوائی ہوگی تیرا بھید چھپا کر دل میں ناحق بوجھ اٹھائے کون چلتی گاڑی نام کا ...

    مزید پڑھیے

    بیمار ہیں تو اب دم عیسیٰ کہاں سے آئے

    بیمار ہیں تو اب دم عیسیٰ کہاں سے آئے اس دل میں درد شوق و تمنا کہاں سے آئے بے کار شرح لفظ و معانی سے فائدہ جب تو نہیں تو شہر میں تجھ سا کہاں سے آئے ہر چشم سنگ کذب و عداوت سے سرخ ہے اب آدمی کو زندگی کرنا کہاں سے آئے وحشت ہوس کی چاٹ گئی خاک جسم کو بے در گھروں میں شکل کا سایہ کہاں سے ...

    مزید پڑھیے

    عمر میں اس سے بڑی تھی لیکن پہلے ٹوٹ کے بکھری میں

    عمر میں اس سے بڑی تھی لیکن پہلے ٹوٹ کے بکھری میں ساحل ساحل جذبے تھے اور دریا دریا پہنچی میں شہر میں اس کے نام کے جتنے شخص تھے سب ہی اچھے تھے صبح سفر تو دھند بہت تھی دھوپیں بن کر نکلی میں اس کی ہتھیلی کے دامن میں سارے موسم سمٹے تھے اس کے ہاتھ میں جاگی میں اور اس کے ہاتھ سے اجلی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 4 سے 5