ہم کہ مغلوب گماں تھے پہلے
ہم کہ مغلوب گماں تھے پہلے پھر وہیں ہیں کہ جہاں تھے پہلے خواہشیں جھریاں بن کر ابھریں زخم سینے میں نہاں تھے پہلے اب تو ہر بات پہ رو دیتے ہیں واقف سود و زیاں تھے پہلے دل سے جیسے کوئی کانٹا نکلا اشک آنکھوں سے رواں تھے پہلے اب فقط انجمن آرائی ہے اعتبار دل و جاں تھے پہلے دوش پہ سر ...