یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہو تماشا ہی نہ ہو
یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہو تماشا ہی نہ ہو
راس آنے لگے ہم کو تو یہ دنیا ہی نہ ہو
زندگی چاہیں تو خوابوں سے سوا کچھ نہ ملے
ڈوبنا چاہیں تو حاصل ہمیں دریا ہی نہ ہو
دل کو خوش کرنے کو ڈھونڈے ہیں بہانے ہم نے
اب پلٹ کر ذرا دیکھیں کہیں آیا ہی نہ ہو
اب تو بس ساعت گم کردہ کی یادیں باقی
یہ وہ جنگل ہے کہ جس میں کوئی رستا ہی نہ ہو
کام کیا دے گا وہ ٹوٹا ہوا آئینہ بھی
یاد رکھنے کو وہی عکس وہ چہرا ہی نہ ہو
ہجر کو شوق مداوا ہی سمجھ کر جی لیں
زندگی تجھ سے الجھنے کا تو یارا ہی نہ ہو