Kishwar Naheed

کشور ناہید

پاکستانی شاعرہ ، اپنے تانیثی خیالات اور مذہبی کٹرپن کی مخالفت کے لئے مشہور

Renowned woman poet from Pakistan known for her bold views on women and her strong stand against religious fundamentalism.

کشور ناہید کی غزل

    دکھ کی گتھی کھولیں گے

    دکھ کی گتھی کھولیں گے اپنے آپ کو سمجھیں گے تیری آنکھ جھپکنے میں لاکھوں طوفاں اٹھیں گے جانے کس دن تجھ کو ہم پاس بٹھا کر دیکھیں گے سن کے قدموں کی آہٹ مانگ میں افشاں بھر لیں گے دیکھیں گے بے مہریٔ دہر چپ کی چادر اوڑھیں گے تیری خاطر موسم گل میں کانٹے دل میں چبھو لیں گے میری چمکتی ...

    مزید پڑھیے

    دل کی دیوار میں آئینہ رکھا تھا کس نے

    دل کی دیوار میں آئینہ رکھا تھا کس نے مجھ کو پہچانتے رہنے کو کہا تھا کس نے دشمن جاں ترے ہاتھوں میں تو پتھر بھی نہ تھا لذت خواب کو نم دیدہ کیا تھا کس نے اب بہت دور نکل جانے کو جی چاہتا ہے مجھ کو جاتے ہوئے دیوانہ کہا تھا کس نے اس کی آنکھوں میں بلاوا ہی نہ تھا سچ یہ ہے اے شب ہجر تجھے ...

    مزید پڑھیے

    پہن کے پیرہن گل صبا نکلتی ہے

    پہن کے پیرہن گل صبا نکلتی ہے سیاہیوں کے جگر سے ضیا نکلتی ہے کبھی تو مجھ کو بھی احساس آشنائی دے وہ روشنی جو کف گل پہ جا نکلتی ہے میں آنکھ بند کروں تو بھی ہے وہی منظر وہ ایک شکل ہر اک رو پہ آ نکلتی ہے سراب فہم سے آگے کہیں ہے بحر مراد ہر ایک منزل دل نقش پا نکلتی ہے کبھی جو کھل کے ...

    مزید پڑھیے

    مجھے بھلا کے مجھے یاد بھی رکھا تو نے

    مجھے بھلا کے مجھے یاد بھی رکھا تو نے یہ کیسا دعویٔ دشوار پھر کیا تو نے ہوا نے اپنے لیے نام کچھ رکھے ہوں گے تھکن سے پوچھ لیا گھر کا راستا تو نے حذر کہ اب مرے ہاتھوں میں مدعا بھی نہیں کیا ہے لیلئ خواہش کو بے ادا تو نے یہ کون تیری طرح میری آنکھ میں چمکا جلائی کیسی یہ قندیل بد دعا تو ...

    مزید پڑھیے

    نظر تو آ کبھی آنکھوں کی روشنی بن کر

    نظر تو آ کبھی آنکھوں کی روشنی بن کر زمین خشک کو سیراب کر نمی بن کر رچا ہوا ہے تری کم نگاہیوں کا کرم نشے کی طرح مرے دل میں سر خوشی بن کر کبھی تو آ ستم جان گسل ہی دینے کو کبھی گزر انہی راہوں سے اجنبی بن کر خوشا کہ اور ملا غم کا تازیانہ ہمیں خوشا وہ درد جو چھایا ہے نغمگی بن ...

    مزید پڑھیے

    خوشبو کو رنگتوں پہ ابھرتا ہوا بھی دیکھ

    خوشبو کو رنگتوں پہ ابھرتا ہوا بھی دیکھ نقش زر بہار چمکتا ہوا بھی دیکھ رکھ کے مدار شوق کسی آفتاب پر تو سنگ انتظار پگھلتا ہوا بھی دیکھ آنکھوں کے گرد جھانکتے حلقے نہ دیکھ تو سیل خجستہ خو کو اترتا ہوا بھی دیکھ بے فیض دشت درد میں آہستگی کے ساتھ آہو سرشت لوگوں کو چلتا ہوا بھی ...

    مزید پڑھیے

    اے رہ ہجر نو فروز دیکھ کہ ہم ٹھہر گئے

    اے رہ ہجر نو فروز دیکھ کہ ہم ٹھہر گئے یہ بھی نہیں کہ زندہ ہیں یہ بھی نہیں کہ مر گئے خواب تلک رہائی تھی تیرے فراق و ہجر سے آنکھ کھلی تو آئنے تہہ میں کہیں اتر گئے تو بھی مری طرح رہا دھیان اٹھائے شہر کا سوئے تو چھاؤں سو گئی قافلے کوچ کر گئے تجھ کو بہت قریب سے دیکھ کے یوں لگا کہ ...

    مزید پڑھیے

    حوصلہ شرط وفا کیا کرنا

    حوصلہ شرط وفا کیا کرنا بند مٹھی میں ہوا کیا کرنا جب کوئی سنتا نہ ہو بولنا کیا قبر میں شور بپا کیا کرنا قہر ہے لطف کی صورت آباد اپنی آنکھوں کو بھی وا کیا کرنا درد ٹھہرے گا وفا کی منزل عکس شیشے سے جدا کیا کرنا دل کے زنداں میں ہے آرام بہت وسعت دشت نما کیا کرنا شمع کشتہ کی طرح جی ...

    مزید پڑھیے

    ایک ہی آواز پر واپس پلٹ آئیں گے لوگ

    ایک ہی آواز پر واپس پلٹ آئیں گے لوگ تجھ کو پھر اپنے گھروں میں ڈھونڈنے جائیں گے لوگ ڈوبتے سورج کی صورت میرا چہرہ دیکھ لو پھر کہاں باب معانی ڈھونڈنے جائیں گے لوگ مت کہو قسمت ہے اپنی بے دلی نا گفتنی پھر سحر ہوگی درخشاں پھر بھلے آئیں گے لوگ پل جھپکنے تک ہے یہ ہنگامۂ وارفتگی جب نظر ...

    مزید پڑھیے

    حسرت ہے تجھے سامنے بیٹھے کبھی دیکھوں

    حسرت ہے تجھے سامنے بیٹھے کبھی دیکھوں میں تجھ سے مخاطب ہوں ترا حال بھی پوچھوں دل میں ہے ملاقات کی خواہش کی دبی آگ مہندی لگے ہاتھوں کو چھپا کر کہاں رکھوں جس نام سے تو نے مجھے بچپن سے پکارا اک عمر گزرنے پہ بھی وہ نام نہ بھولوں تو اشک ہی بن کے مری آنکھوں میں سما جا میں آئینہ دیکھوں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 5