دل کی دیوار میں آئینہ رکھا تھا کس نے

دل کی دیوار میں آئینہ رکھا تھا کس نے
مجھ کو پہچانتے رہنے کو کہا تھا کس نے


دشمن جاں ترے ہاتھوں میں تو پتھر بھی نہ تھا
لذت خواب کو نم دیدہ کیا تھا کس نے


اب بہت دور نکل جانے کو جی چاہتا ہے
مجھ کو جاتے ہوئے دیوانہ کہا تھا کس نے


اس کی آنکھوں میں بلاوا ہی نہ تھا سچ یہ ہے
اے شب ہجر تجھے ساتھ کیا تھا کس نے


انجمن انجمن قصے تھے ہمارے کل تک
آج ویرانی کو آنکھوں میں رکھا تھا کس نے


نام تو اس کا بھلا سا تھا مگر یاد نہیں
سسکیاں لے کے تجھے یاد کیا تھا کس نے