مجھ کو دریوزہ گر خواب بنا دیتا ہے
مجھ کو دریوزہ گر خواب بنا دیتا ہے
جب بھی آتا ہے مری پیاس بڑھا دیتا ہے
پوچھ لیتا ہے مرا حال وہ دیواروں سے
اپنے ہی ہاتھ سے تصویر بنا دیتا ہے
اس نے سیکھا ہی نہیں خواب میں رہنے کا سفر
ایسا کوئی نہیں جو آ کے جگا دیتا ہے
شام ہوتے ہی سنورتا ہے مری آنکھوں میں
یہ نظارہ ہی مجھے آگ بنا دیتا ہے
آئنہ ڈھونڈ ہی لیتا ہے مجھے آخر کار
لطف تائید مجھے تجھ سے سوا دیتا ہے