ہری تھی شاخ تو بیٹھا نہ اس پہ پنچھی کیوں

ہری تھی شاخ تو بیٹھا نہ اس پہ پنچھی کیوں
لگے ہے اجڑے ہوئے خواب سی یہ بستی کیوں


مجھے خبر ہے مرے گھر میں سانپ آنکھیں ہیں
وگرنہ غم کے خزینے چھپا کے رکھتی کیوں


تمہی سے تہمت عالم کو نسبتیں موسوم
تمہیں کو کہتے ہیں سب لوگ سب سے اچھی کیوں


خزاں کو میرے ہی خوابوں کے نام کیوں لکھا
زمیں نے اپنی یہ دولت مجھی کو سونپی کیوں


مرا وجود بھی کیا کچھ خدا سے ملتا ہے
سوال شک سے ہے بیگانہ میری ہستی کیوں


یہ اشک سلسلۂ جاں کے بولتے لب ہیں
چھپا کے دولت نایاب تم نے رکھی کیوں


وجود اپنا کسے کب عزیز تھا ناہیدؔ
ہوئی ہے شام سے پہلے ہی شام گہری کیوں