Khwaja Aminuddin Ameen

خواجہ امین الدین امین

  • 1934

خواجہ امین الدین امین کی غزل

    جانے کیا بات ہے کیوں شور مچا رکھا ہے

    جانے کیا بات ہے کیوں شور مچا رکھا ہے بات بے بات کا افسانہ بنا رکھا ہے کچھ نہ کچھ ہے تو سہی آج ترے کوچے میں جو یہ ہنگامے پہ ہنگامہ مچا رکھا ہے جن کو پینے کا سلیقہ ہی نہیں آتا ہے کیوں انہیں آپ نے مدہوش بنا رکھا ہے ورنہ طوفاں نیا آنے کا سبب ہو جاتے ہم نے جذبات کو سینے میں دبا رکھا ...

    مزید پڑھیے

    دل پہ گزرے ہوئے حالات کسے پیش کروں

    دل پہ گزرے ہوئے حالات کسے پیش کروں غم میں ڈوبے ہوئے لمحات کسے پیش کروں جن سے امید وفا تھی وہ ستم گر نکلے اپنی بربادی کی ہر بات کسے پیش کروں کتنے ارمان خدا جانے بھرے ہیں دل میں آرزوؤں کی یہ سوغات کسے پیش کروں یاد ماضی کو بھلاؤں تو بھلاؤں کیسے یہ گزرتے ہوئے دن رات کسے پیش ...

    مزید پڑھیے

    جس کا دل آپ نے لیا ہوگا

    جس کا دل آپ نے لیا ہوگا خاک میں لے ملا دیا ہوگا ہم کو کیا گر بہار آئی ہے دل وہ غنچہ نہیں کہ وا ہوگا گالیاں غیر سے سناتے ہو ہاں میاں تم سے اور کیا ہوگا مل گیا ہوگا خاک میں جوں اشک تیری آنکھوں سے جو گرا ہوگا

    مزید پڑھیے

    بدلے نہ گئے ہم سے تو حالات ابھی تک

    بدلے نہ گئے ہم سے تو حالات ابھی تک کرتے ہی رہے لوگ سوالات ابھی تک اک ہم کہ کہیں آشیاں تعمیر نہ کر پائے وہ محو بہ تعمیر محلات ابھی تک اک بار ہی دنیا سے ذرا دل جو لگایا دامن سے ہیں لپٹی ہوئی آفات ابھی تک کرتی رہیں انسان کو انسان سے بد ظن تہذیب نو یہ تیری خرافات ابھی تک ملتا ہی ...

    مزید پڑھیے

    ہم اہل فن نہیں ہیں یا اہل سخن نہیں

    ہم اہل فن نہیں ہیں یا اہل سخن نہیں کیا انجمن ہماری کوئی انجمن نہیں یہ انقلاب وقت کی سازش ہے ان دنوں ہم باغباں بھی ہو کے ہمارا چمن نہیں کب تک بہے گا خوں یہاں انسانیت کا دوست یہ دشمنان امن کا اچھا چلن نہیں ہم پر اٹھائے انگلیاں دنیا اگرچہ ہم پہنے ہوئے تو ایسا کوئی پیرہن ...

    مزید پڑھیے