جانے کیا بات ہے کیوں شور مچا رکھا ہے

جانے کیا بات ہے کیوں شور مچا رکھا ہے
بات بے بات کا افسانہ بنا رکھا ہے


کچھ نہ کچھ ہے تو سہی آج ترے کوچے میں
جو یہ ہنگامے پہ ہنگامہ مچا رکھا ہے


جن کو پینے کا سلیقہ ہی نہیں آتا ہے
کیوں انہیں آپ نے مدہوش بنا رکھا ہے


ورنہ طوفاں نیا آنے کا سبب ہو جاتے
ہم نے جذبات کو سینے میں دبا رکھا ہے


کچھ کہو گے تو کوئی حل بھی نکل آئے گا
راز وہ کیا ہے کہ جو دل میں چھپا رکھا ہے


کوئی الزام برائی کا لگا دے نہ امین
اپنے کردار کے دامن کو بچا رکھا ہے