ہم اہل فن نہیں ہیں یا اہل سخن نہیں
ہم اہل فن نہیں ہیں یا اہل سخن نہیں
کیا انجمن ہماری کوئی انجمن نہیں
یہ انقلاب وقت کی سازش ہے ان دنوں
ہم باغباں بھی ہو کے ہمارا چمن نہیں
کب تک بہے گا خوں یہاں انسانیت کا دوست
یہ دشمنان امن کا اچھا چلن نہیں
ہم پر اٹھائے انگلیاں دنیا اگرچہ ہم
پہنے ہوئے تو ایسا کوئی پیرہن نہیں
کتنی عجیب بات ہے ہم اجنبی سے ہیں
رہ کر وطن میں پھر بھی ہمارا وطن نہیں
گھبرا کے حادثوں سے کہاں جاؤ گے امینؔ
وہ کون سی جگہ ہے کہ جو پر فتن نہیں