دل پہ گزرے ہوئے حالات کسے پیش کروں
دل پہ گزرے ہوئے حالات کسے پیش کروں
غم میں ڈوبے ہوئے لمحات کسے پیش کروں
جن سے امید وفا تھی وہ ستم گر نکلے
اپنی بربادی کی ہر بات کسے پیش کروں
کتنے ارمان خدا جانے بھرے ہیں دل میں
آرزوؤں کی یہ سوغات کسے پیش کروں
یاد ماضی کو بھلاؤں تو بھلاؤں کیسے
یہ گزرتے ہوئے دن رات کسے پیش کروں
اک تڑپ سی ہے جو بے چین کیا کرتی ہے
دل میں اٹھتے ہوئے جذبات کسے پیش کروں
ہم نوا کوئی نہیں اپنا زمانے میں امینؔ
اپنے دل سوز یہ نغمات کسے پیش کروں