بدلے نہ گئے ہم سے تو حالات ابھی تک
بدلے نہ گئے ہم سے تو حالات ابھی تک
کرتے ہی رہے لوگ سوالات ابھی تک
اک ہم کہ کہیں آشیاں تعمیر نہ کر پائے
وہ محو بہ تعمیر محلات ابھی تک
اک بار ہی دنیا سے ذرا دل جو لگایا
دامن سے ہیں لپٹی ہوئی آفات ابھی تک
کرتی رہیں انسان کو انسان سے بد ظن
تہذیب نو یہ تیری خرافات ابھی تک
ملتا ہی نہیں کوئی ہمیں پوچھنے والا
سینے میں دبا رکھے ہیں جذبات ابھی تک
دل ٹوٹ سا جاتا ہے تڑپ جاتا ہوں اس دم
یاد آتے ہیں رہ رہ کے وہ لمحات ابھی تک
اک ہم ہی امیںؔ وقت کا پیغام نہ سمجھے
ممکن ہے بدل جاتے یہ حالات ابھی تک