Khwaja Ali Husain

خواجہ علی حسین

خواجہ علی حسین کی غزل

    کب خزانہ تلاش کرتا ہوں

    کب خزانہ تلاش کرتا ہوں آب و دانہ تلاش کرتا ہوں جس زمانے کو ہے تلاش مری وہ زمانہ تلاش کرتا ہوں لے کے دریا کو اپنی مٹھی میں کوئی پیاسا تلاش کرتا ہوں کام دھندا ہے اب یہی میرا کام دھندا تلاش کرتا ہوں تیرا چہرہ تو ہر طرف پایا اپنا چہرہ تلاش کرتا ہوں تھک گیا ہوں تلاش کر کر کے پھر ...

    مزید پڑھیے

    جس طرح وقت کی سرحد کا کنارا ہی نہ ہو

    جس طرح وقت کی سرحد کا کنارا ہی نہ ہو دن اسی طور گزارا کہ گزارا ہی نہ ہو ترک الفت کو زمانہ ہوا لیکن اب تک ایسا لگتا ہے تجھے دل سے اتارا ہی نہ ہو چپ رہے تو تو لگے جیسے پکارا ہے مجھے جب پکارے تو لگے جیسے پکارا ہی نہ ہو سوچ لینے سے غزل ساختہ ہو جاتی ہے وہ غزل پیش کرو جس کو سنوارا ہی نہ ...

    مزید پڑھیے

    کرب تخلیق کا چھایا رہا منظر مجھ پر

    کرب تخلیق کا چھایا رہا منظر مجھ پر آیت عشق اترتی رہی شب بھر مجھ پر ایک ساعت کو بھلایا تھا غم عشق ابھی بند ہونے لگا تخلیق کا ہر در مجھ پر جاگتے وقت وہی شخص لبادہ تھا مرا نیم شب کو جو اتارا گیا پیکر مجھ پر چیل کوؤں کی طرح کھا گئے رشتے میرے پھر بھی الزام دھرا جاتا ہے مجھ پر مجھ ...

    مزید پڑھیے

    وجود خواب میں ڈھل کر نڈھال تھوڑی ہے

    وجود خواب میں ڈھل کر نڈھال تھوڑی ہے مرے شعور میں اتنی مجال تھوڑی ہے زمانہ بیت گیا خود سے رسم و راہ کیے ہمارا خود سے تعلق بحال تھوڑی ہے مرے زمین سے اٹھتے ہوئے وجود کو دیکھ یہ رقص وجد ہے پاگل دھمال تھوڑی ہے ہر اک مقام پہ قائم رہے ہیں ہوش و حواس ہماری قیس کے جیسی مثال تھوڑی ہے عطا ...

    مزید پڑھیے

    سب یقیں بیچ کر سب گماں بیچ کر

    سب یقیں بیچ کر سب گماں بیچ کر میں تونگر ہوں سود و زیاں بیچ کر جھڑ گئے میری شاخوں سے برگ و ثمر پھر بہاریں خریدیں خزاں بیچ کر اک نیا آشیانہ بناؤں گا میں بر لب میکدہ اک مکاں بیچ کر سب بکے گا یہاں بیکسی کے سوا میں ابھی آ رہا ہوں زباں بیچ کر اپنے بچوں کی روزی کماتا رہا وہ عدالت میں ...

    مزید پڑھیے

    کبھی زمیں نہ کہیں آسماں سے نکلے گا

    کبھی زمیں نہ کہیں آسماں سے نکلے گا ہمارا راز کسی رازداں سے نکلے گا وہ ایک اشک مری عاقبت سنوارے گا شب فراق جو چشم عیاں سے نکلے گا مجھے خبر ہے مری موت کا سبب مرے دوست بس ایک تیر تمہاری کماں سے نکلے گا میں نارسائی سے امکان کھوج لیتا ہوں مرا یقین بھی مرے گماں سے نکلے گا جو بے وفائی ...

    مزید پڑھیے

    جانا مجھے کدھر تھا کس سمت چل رہا ہوں

    جانا مجھے کدھر تھا کس سمت چل رہا ہوں اک عمر میں تمہارا نعم البدل رہا ہوں جلتے ہیں لوگ تپتے سورج کی روشنی سے میں رو سیاہ کب سے ظلمت میں جل رہا ہوں اترا تھا چاند میری خوابوں کی انجمن میں میں اس گھڑی سے اب تک آنکھیں مسل رہا ہوں اب تک بسی ہوئی ہے خوشبو مرے بدن میں کہتے ہیں اس سے باہم ...

    مزید پڑھیے

    تو آنکھ کے رستے سے مرے دل میں اتر جا

    تو آنکھ کے رستے سے مرے دل میں اتر جا تو اشک وفا بن کے ان آنکھوں میں ٹھہر جا مرجھائے ہوئے پھولوں کو اک رنگ نیا دے الفت کی ادا بن کے تو رستے سے گزر جا تو میری خزاں شب کے اندھیروں کو کرن دے خوشبو کی طرح دل میں ہر اک سمت بکھر جا خاموش ہیں الفاظ مرے ان کو زباں دے اس زلف سے کہہ دے کسی ...

    مزید پڑھیے

    بھیجا ہوا ہے اور نہ بلایا ہوا ہے درد

    بھیجا ہوا ہے اور نہ بلایا ہوا ہے درد مہمان بن کے دل میں سمایا ہوا ہے درد آنکھوں سے اک جھڑی ہے مسلسل لگی ہوئی لگتا ہے عاشقی کا ستایا ہوا ہے درد ہم ہیں جزائے تیرہ شبی میں گندھے ہوئے اپنی رضا سے دل سے لگایا ہوا ہے درد جیسے ملائے رند خرابات مے سے مے ہم نے بھی شام غم میں ملایا ہوا ہے ...

    مزید پڑھیے

    سنا ہے جب سے خدا کا کلام راحت ہے

    سنا ہے جب سے خدا کا کلام راحت ہے ہر ایک درس کا موضوع عام راحت ہے کدورتوں سے کشائش ملا نہیں کرتی جہان بھر کو ہمارا پیام راحت ہے میں اختیار کے ہوتے ہوئے کہاں خوش تھا ہوا ہوں جب سے کسی کا غلام راحت ہے میں دشت و شہر و گلستاں میں بے سکون رہا کیا ہے ذات میں جب سے قیام راحت ہے ستا ستا ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2