اول اول کی جوانی میں ابال آیا تھا
اول اول کی جوانی میں ابال آیا تھا بعد میں جا کے کہیں ضبط کمال آیا تھا میرے وجدان نے بر وقت بتایا تھا مجھے ہجر کا خواب مجھے وقت وصال آیا تھا کو بہ کو پھیل گئی اس کے بدن کی خوشبو صاف لگتا ہے وہی زہرہ جمال آیا تھا خود کو پانے کے لیے خود میں اتر کر اپنے بحر و بر ہاتھ کی چھلنی میں ...