کبھی زمیں نہ کہیں آسماں سے نکلے گا

کبھی زمیں نہ کہیں آسماں سے نکلے گا
ہمارا راز کسی رازداں سے نکلے گا


وہ ایک اشک مری عاقبت سنوارے گا
شب فراق جو چشم عیاں سے نکلے گا


مجھے خبر ہے مری موت کا سبب مرے دوست
بس ایک تیر تمہاری کماں سے نکلے گا


میں نارسائی سے امکان کھوج لیتا ہوں
مرا یقین بھی مرے گماں سے نکلے گا


جو بے وفائی سے تعبیر کر رہا ہے مجھے
وہ کم شناس مری داستاں سے نکلے گا


اسے نکالا گیا تھا بہشت سے پہلے
اب اس کے بعد یہ آدم جہاں سے نکلے گا


اب اور ضبط کرے گا تو عابدیؔ تیرا
شکیب آنکھ کے سیل رواں سے نکلے گا