وجود خواب میں ڈھل کر نڈھال تھوڑی ہے
وجود خواب میں ڈھل کر نڈھال تھوڑی ہے
مرے شعور میں اتنی مجال تھوڑی ہے
زمانہ بیت گیا خود سے رسم و راہ کیے
ہمارا خود سے تعلق بحال تھوڑی ہے
مرے زمین سے اٹھتے ہوئے وجود کو دیکھ
یہ رقص وجد ہے پاگل دھمال تھوڑی ہے
ہر اک مقام پہ قائم رہے ہیں ہوش و حواس
ہماری قیس کے جیسی مثال تھوڑی ہے
عطا ہوئی ہے کسی درد انتہا کے عوض
یہ شاعری مرا اپنا کمال تھوڑی ہے
یہ زندگی ہے کسی اور امتحان کا روگ
مرے نصاب میں شامل سوال تھوڑی ہے
حقائق غم دنیا سے مت چرا آنکھیں
سروں پہ ہجر تنا ہے وصال تھوڑی ہے
ہمیں تو عابدیؔ شاعر بنا دیا اس نے
یہ عشق کار سخن ہے وبال تھوڑی ہے