جانا مجھے کدھر تھا کس سمت چل رہا ہوں

جانا مجھے کدھر تھا کس سمت چل رہا ہوں
اک عمر میں تمہارا نعم البدل رہا ہوں


جلتے ہیں لوگ تپتے سورج کی روشنی سے
میں رو سیاہ کب سے ظلمت میں جل رہا ہوں


اترا تھا چاند میری خوابوں کی انجمن میں
میں اس گھڑی سے اب تک آنکھیں مسل رہا ہوں


اب تک بسی ہوئی ہے خوشبو مرے بدن میں
کہتے ہیں اس سے باہم دو چار پل رہا ہوں


شاطر ہے وقت دیکھو کیا چال چل گیا ہے
جس کی ہے آج دنیا میں اس کا کل رہا ہوں


میرے قدم بظاہر آگے کو بڑھ رہے ہیں
لیکن حقیقتاً میں دن رات ڈھل رہا ہوں


اٹھ کر گرا ہوں اکثر چاہت کی جستجو میں
گر کر میں عابدیؔ اب پھر سے سنبھل رہا ہوں