Khushi Mohammad Naazir

خوشی محمد ناظر

خوشی محمد ناظر کی غزل

    بجھائیں پیاس کہاں جا کے تیرے مستانے

    بجھائیں پیاس کہاں جا کے تیرے مستانے جو ساقیا در مے خانہ تو نہ باز کرے نہیں وہ لذت آزار عشق سے آگاہ ستم میں اور کرم میں جو امتیاز کرے انہیں کے حسن سے ہے گرم عشق کا بازار دعا خدا سے ہے عمر بتاں دراز کرے خدا کا نام بھی لو بازوؤں سے کام بھی لو تو فکر کار خداوند کار ساز کرے ہوا و حرص ...

    مزید پڑھیے

    نگاہ لطف کبھی گر وہ مست ناز کرے

    نگاہ لطف کبھی گر وہ مست ناز کرے نیاز مند کو عالم سے بے نیاز کرے وہ سرنوشت جبیں پر بجا ہے ناز کرے جو آستاں پہ ترے سجدۂ نیاز کرے نہ تیرے چاہنے والوں میں ہو یہ جنگ و جدل اشارہ گر نہ تری چشم فتنہ ساز کرے بجھائیں پیاس کہاں جا کے تیرے مستانے جو ساقیا در مے خانہ تو نہ باز کرے جہاں میں ...

    مزید پڑھیے

    یہی گر حسن کا عالم رہے گا

    یہی گر حسن کا عالم رہے گا تو زخم عشق بے مرہم رہے گا نہ دے اے ناصح مشفق تسلی کہ جب تک ہم رہیں گے غم رہے گا ہے جس کے دم سے یہ ہنگامۂ عشق وہی ہر دم رہا ہر دم رہے گا بشر یاں سیج پر پھولوں کی کب تک مثال قطرۂ شبنم رہے گا غم دل دینے والے سچ بتانا تجھے بھی کچھ ہمارا غم رہے گا نہال عشق کو ...

    مزید پڑھیے

    جو نیش غم سے بے پروا نہ ہوگا

    جو نیش غم سے بے پروا نہ ہوگا تمہارا چاہنے والا نہ ہوگا جو تیری یاد میں آنسو بہے گا وہ جاناں گوہر یک دانہ ہوگا حسین و مہ جبیں ہوں گے جہاں میں مگر کافر ادا تجھ سا نہ ہوگا ہے تو پردہ میں اور شور اک جہاں میں یہ پردہ جب اٹھا پھر کیا نہ ہوگا تڑپ جس دل میں یزداں کی نہ ہوگی تو اہریمن کا ...

    مزید پڑھیے

    ہمدمو لطف شبانہ ہو چکا

    ہمدمو لطف شبانہ ہو چکا عیش و عشرت کا زمانہ ہو چکا اب غم و شادی سے آزادی ملی رنج و راحت کا زمانہ ہو چکا نجد میں آوارہ کیوں پھرتا ہے قیس محمل لیلیٰ روانہ ہو چکا منزل دل میں تھیں کیا کیا حسرتیں قافلہ یہ بھی روانہ ہو چکا زندگی غم کی کہانی رہ گئی عیش کا رنگیں فسانہ ہو چکا ہو گئی ...

    مزید پڑھیے

    کوئی شمع اور کوئی پروانہ ہوگا

    کوئی شمع اور کوئی پروانہ ہوگا جہاں میں عشق کا افسانہ ہوگا جنون عشق سے ہے لطف ہستی وہ دیوانہ ہے جو فرازانہ ہوگا ترے مستوں کا اے کوثر کے ساقی وہی پیماں وہی پیمانہ ہوگا خرابات جہاں وقف فنا ہے مگر باقی ترا مے خانہ ہوگا رواں ہیں کارواں جس کی طرف سب یہی وہ کوچۂ جانانہ ہوگا وہ دل ...

    مزید پڑھیے

    کس کی چشم مست یاد آتی رہی

    کس کی چشم مست یاد آتی رہی نیند آنکھوں سے مری جاتی رہی دل تو شوق دید میں تڑپا کیا آنکھ ہی کم بخت شرماتی رہی زندگی سے ہم رہے نا آشنا سانس گو آتی رہی جاتی رہی عمر بھر ناظرؔ رہے صحرا نورد بزم گلشن گرچہ یاد آتی رہی

    مزید پڑھیے

    نئے نیرنگ دکھلاتا ہے یہ چرخ کہن کیا کیا

    نئے نیرنگ دکھلاتا ہے یہ چرخ کہن کیا کیا جہاں میں گل کھلائے گی ابھی خاک چمن کیا کیا جہاں کی سر بلندی کا مآل کار پستی ہے نشاط و عیش منعم پر ہے مفلس خندہ زن کیا کیا اسی حسن ازل کی لوح عالم پر ہیں تحریریں وہی اک عشق کا مضموں ہے انداز سخن کیا کیا ابھی سے رہ نورد عشق ہمت ہار بیٹھے ...

    مزید پڑھیے

    مست و بے خود تیرے مے خانے کا بام و در بنے

    مست و بے خود تیرے مے خانے کا بام و در بنے ساقیا گر تیری چشم مست کا ساغر بنے حرص کے صحرا میں جو جھونکا چلے سر سر بنے عشق کے دریا میں جو قطرہ گرے گوہر بنے بت بنے کعبہ بنا مسجد بنی مندر بنے عشق کی دنیا میں کیا کیا دل ربا منظر بنے درس عبرت دور دوراں میں ہے بزم مے کدہ مے کشوں کی خاک سے ...

    مزید پڑھیے