جو نیش غم سے بے پروا نہ ہوگا

جو نیش غم سے بے پروا نہ ہوگا
تمہارا چاہنے والا نہ ہوگا


جو تیری یاد میں آنسو بہے گا
وہ جاناں گوہر یک دانہ ہوگا


حسین و مہ جبیں ہوں گے جہاں میں
مگر کافر ادا تجھ سا نہ ہوگا


ہے تو پردہ میں اور شور اک جہاں میں
یہ پردہ جب اٹھا پھر کیا نہ ہوگا


تڑپ جس دل میں یزداں کی نہ ہوگی
تو اہریمن کا وہ کاشانہ ہوگا


گلستاں آج سرمست نوا ہے
چمن میں جلوۂ جانانہ ہوگا


نہ ہو شاعر جو شمع بزم ہستی
جہاں میں عشق کا جلوا نہ ہوگا


نہ ہوں گے ہم نوا سنج بہاراں
تو گلزار جہاں ویرانہ ہوگا


نہ چھیڑیں ہم اگر تار رگ جاں
نوائے زندگی پیدا نہ ہوگا


رخ زیبا کی تصویر خیالی
ترے ناظرؔ کا یہ نذرانہ ہوگا