ہمدمو لطف شبانہ ہو چکا
ہمدمو لطف شبانہ ہو چکا
عیش و عشرت کا زمانہ ہو چکا
اب غم و شادی سے آزادی ملی
رنج و راحت کا زمانہ ہو چکا
نجد میں آوارہ کیوں پھرتا ہے قیس
محمل لیلیٰ روانہ ہو چکا
منزل دل میں تھیں کیا کیا حسرتیں
قافلہ یہ بھی روانہ ہو چکا
زندگی غم کی کہانی رہ گئی
عیش کا رنگیں فسانہ ہو چکا
ہو گئی ویراں وہ بزم مے کدہ
دور ساغر کا زمانہ ہو چکا
اب نہیں بزم چمن رنگیں نوا
عندلیبوں کا ترانہ ہو چکا
مطرب ایام نے بدلا ہے ٹھاٹھ
شوق کا چنگ و چغانہ ہو چکا
موج مضطر کو ہوا آخر قرار
شور طوفاں کا زمانہ ہو چکا
ناظرؔ اب ذوق نظر بیکار ہے
منظر ہستی پرانا ہو چکا