مست و بے خود تیرے مے خانے کا بام و در بنے
مست و بے خود تیرے مے خانے کا بام و در بنے
ساقیا گر تیری چشم مست کا ساغر بنے
حرص کے صحرا میں جو جھونکا چلے سر سر بنے
عشق کے دریا میں جو قطرہ گرے گوہر بنے
بت بنے کعبہ بنا مسجد بنی مندر بنے
عشق کی دنیا میں کیا کیا دل ربا منظر بنے
درس عبرت دور دوراں میں ہے بزم مے کدہ
مے کشوں کی خاک سے کیا کیا خم و ساغر بنے
کیا عجب اس خاکداں کے ہوں کبھی چشم و چراغ
جا کے اوج آسماں پر جو مہ و اختر بنے
بے گداز عشق رنگ حسن بھی کھلتا نہیں
عشق کے سانچے میں ڈھل کر نور کا پیکر بنے
دل کے ویرانے میں کیا کیا حسرتیں آباد ہیں
راہ میں سیل فنا کی کیسے کیسے گھر بنے
اے شہہ کونین در پر غیر کے جھکتا نہیں
تیرے سنگ آستاں کے واسطے جو سر بنے
پھر بہار آئی چمن میں پھر اٹھا جوش جنوں
پھر سر شوریدہ کی خاطر نئے پتھر بنے
فصل گل ہے باغباں اب رخصت پرواز ہے
اب تو تنکے آشیاں کے میرے بال و پر بنے
بندۂ ناظرؔ بھی حاضر تیرے مے خواروں میں ہو
اے شہ لولاک جب تو ساقیٔ کوثر بنے