Khushi Mohammad Naazir

خوشی محمد ناظر

خوشی محمد ناظر کے تمام مواد

9 غزل (Ghazal)

    بجھائیں پیاس کہاں جا کے تیرے مستانے

    بجھائیں پیاس کہاں جا کے تیرے مستانے جو ساقیا در مے خانہ تو نہ باز کرے نہیں وہ لذت آزار عشق سے آگاہ ستم میں اور کرم میں جو امتیاز کرے انہیں کے حسن سے ہے گرم عشق کا بازار دعا خدا سے ہے عمر بتاں دراز کرے خدا کا نام بھی لو بازوؤں سے کام بھی لو تو فکر کار خداوند کار ساز کرے ہوا و حرص ...

    مزید پڑھیے

    نگاہ لطف کبھی گر وہ مست ناز کرے

    نگاہ لطف کبھی گر وہ مست ناز کرے نیاز مند کو عالم سے بے نیاز کرے وہ سرنوشت جبیں پر بجا ہے ناز کرے جو آستاں پہ ترے سجدۂ نیاز کرے نہ تیرے چاہنے والوں میں ہو یہ جنگ و جدل اشارہ گر نہ تری چشم فتنہ ساز کرے بجھائیں پیاس کہاں جا کے تیرے مستانے جو ساقیا در مے خانہ تو نہ باز کرے جہاں میں ...

    مزید پڑھیے

    یہی گر حسن کا عالم رہے گا

    یہی گر حسن کا عالم رہے گا تو زخم عشق بے مرہم رہے گا نہ دے اے ناصح مشفق تسلی کہ جب تک ہم رہیں گے غم رہے گا ہے جس کے دم سے یہ ہنگامۂ عشق وہی ہر دم رہا ہر دم رہے گا بشر یاں سیج پر پھولوں کی کب تک مثال قطرۂ شبنم رہے گا غم دل دینے والے سچ بتانا تجھے بھی کچھ ہمارا غم رہے گا نہال عشق کو ...

    مزید پڑھیے

    جو نیش غم سے بے پروا نہ ہوگا

    جو نیش غم سے بے پروا نہ ہوگا تمہارا چاہنے والا نہ ہوگا جو تیری یاد میں آنسو بہے گا وہ جاناں گوہر یک دانہ ہوگا حسین و مہ جبیں ہوں گے جہاں میں مگر کافر ادا تجھ سا نہ ہوگا ہے تو پردہ میں اور شور اک جہاں میں یہ پردہ جب اٹھا پھر کیا نہ ہوگا تڑپ جس دل میں یزداں کی نہ ہوگی تو اہریمن کا ...

    مزید پڑھیے

    ہمدمو لطف شبانہ ہو چکا

    ہمدمو لطف شبانہ ہو چکا عیش و عشرت کا زمانہ ہو چکا اب غم و شادی سے آزادی ملی رنج و راحت کا زمانہ ہو چکا نجد میں آوارہ کیوں پھرتا ہے قیس محمل لیلیٰ روانہ ہو چکا منزل دل میں تھیں کیا کیا حسرتیں قافلہ یہ بھی روانہ ہو چکا زندگی غم کی کہانی رہ گئی عیش کا رنگیں فسانہ ہو چکا ہو گئی ...

    مزید پڑھیے

تمام

1 نظم (Nazm)

    یاران نجد

    اے باد صبح گاہی دل کی کلی کھلا دے ویرانہ میرے دل کا رشک چمن بنا دے اس بزم جاں فزا کا نظارہ پھر دکھا دے گلزار آرزو میں پھر تازہ گل کھلا دے یہ کارزار ہستی ہے رنج و غم کی بستی پھر یاد بزم جم میں اک جام جم پلا دے اب شام زندگی کی ظلمت ہے چھانے والی وہ صبح دل کشا کا نظارہ پھر دکھا دے پستی ...

    مزید پڑھیے