یاران نجد
اے باد صبح گاہی دل کی کلی کھلا دے ویرانہ میرے دل کا رشک چمن بنا دے اس بزم جاں فزا کا نظارہ پھر دکھا دے گلزار آرزو میں پھر تازہ گل کھلا دے یہ کارزار ہستی ہے رنج و غم کی بستی پھر یاد بزم جم میں اک جام جم پلا دے اب شام زندگی کی ظلمت ہے چھانے والی وہ صبح دل کشا کا نظارہ پھر دکھا دے پستی ...