خورشید طلب کی غزل

    شجر پر جتنی سوکھی پتیاں ہیں

    شجر پر جتنی سوکھی پتیاں ہیں تمہارے نام میری چٹھیاں ہیں قریب آنے سے پہلے سوچ لینا مرے اندر بہت سی خامیاں ہیں ابھی ہر موج چپ سادھے ہوئے ہے ابھی ساحل پہ ساری کشتیاں ہیں سیاست کے مچھیرے جانتے ہیں کہ کس دریا میں کتنی مچھلیاں ہیں وہی عادت ہے سب کی زاغ جیسی وہی بلبل سی میٹھی بولیاں ...

    مزید پڑھیے

    وہ جس نے ڈھال دیا برف کو شرارے میں

    وہ جس نے ڈھال دیا برف کو شرارے میں میں کب سے سوچ رہا ہوں اسی کے بارے میں نہ جانے نیند سے کب گھر کے لوگ جاگیں گے کہ اب تو دھوپ چلی آئی ہے اوسارے میں میں جاگ جاگ کے شب بھر اسے تلاشتا ہوں لکھا ہوا ہے مرا نام اک ستارے میں کھلے گی دھوپ تو وادی کا رنگ نکھرے گا ابھی تو اوس کی اک دھند ہے ...

    مزید پڑھیے

    یہ جنوں کے معرکے اتنے نہیں آسان بھی

    یہ جنوں کے معرکے اتنے نہیں آسان بھی سوچ لینا اس میں جا سکتی ہے تیری جان بھی روشنی بھی چاہئے تازہ ہوا کے ساتھ ساتھ کھڑکیاں رکھتا ہوں اپنے گھر میں روشن دان بھی زندگی میں جو تمہیں خود سے زیادہ تھے عزیز ان سے ملنے کیا کبھی جاتے ہو قبرستان بھی گاؤں کی پگڈنڈیاں پکی سڑک سے جا ...

    مزید پڑھیے

    بس ایک سانس لیا کھل کے لخت لخت ہوا

    بس ایک سانس لیا کھل کے لخت لخت ہوا کہ زندگی نہ ہوئی کانچ کا درخت ہوا بہت ذہین بھی ہونا وبال جاں ہے یہاں ہمارے ساتھ ہر اک امتحان سخت ہوا جہاں پہ مجھ کو حلیمی سے کام لینا تھا اسی مقام پہ لہجہ مرا کرخت ہوا نہ میں کسی کے لیے زاد وصل بن پایا نہ ہجرتوں میں مرا کوئی ساز رخت ہوا طلبؔ ...

    مزید پڑھیے

    نہ شہر میں نہ کسی دشت ہو میں خاک ہوئے

    نہ شہر میں نہ کسی دشت ہو میں خاک ہوئے ہمارے خواب ہمارے لہو میں خاک ہوئے کسی کے ہاتھ لگا کب وہ ماہتاب بدن کئی جیالے وہیں جستجو میں خاک ہوئے دھواں سا اٹھتا ہے دل سے جو سوچتا ہوں کبھی وہ کون تھے جو مری آرزو میں خاک ہوئے تھے کتنے گیت جو آواز کو ترستے رہے ہزار راگ رگ خوش گلو میں خاک ...

    مزید پڑھیے

    قصوروار جو تم ہو خطا ہماری بھی ہے

    قصوروار جو تم ہو خطا ہماری بھی ہے دیے بجھانے میں شامل ہوا ہماری بھی ہے بہت عزیز ہمیں تیری دوستی ہے مگر اگر غرور ہے تجھ میں انا ہماری بھی ہے ہمیں بھی زیب سماعت کبھی بنایا جائے دبی دبی ہی سہی اک صدا ہماری بھی ہے کسی نے دل پہ مرے ہاتھ رکھ کے پوچھا تھا تری بہشت میں کیا کوئی جا ہماری ...

    مزید پڑھیے

    زرد پتوں کا غبار اڑتا ہوا

    زرد پتوں کا غبار اڑتا ہوا خیمۂ گل میں شرار اڑتا ہوا بہہ چکی گدرائے جسموں کی شراب لمس اول کا خمار اڑتا ہوا سب نے دیکھا اور سب خاموش تھے ایک صوفی کا مزار اڑتا ہوا لگ چکی ہے سبز دریاؤں میں آگ بھاپ بن کر آبشار اڑتا ہوا مطمئن دیوار پر ہے چھپکلی خود ہی آئے گا شکار اڑتا ہوا اس نے آ ...

    مزید پڑھیے

    تماشہ رہ گزر در رہ گزر افسوس کا ہے

    تماشہ رہ گزر در رہ گزر افسوس کا ہے بھلے ہی خوش ہیں سب لیکن سفر افسوس کا ہے بہشتی باغ کی سب تتلیاں ہیں پر بریدہ شکستہ رنگ تا حد نظر افسوس کا ہے ابھی اترا رہے ہیں ساکنان قصر شاہی ابھی آنکھوں سے ان کے محو گھر افسوس کا ہے حویلی اب کہاں جو قہقہوں سے گونجتی تھی جہاں تک دیکھتا ہوں میں ...

    مزید پڑھیے

    مٹاتے جاتے ہیں جو بھی نشاں بناتے ہیں

    مٹاتے جاتے ہیں جو بھی نشاں بناتے ہیں ہم اپنے پیچھے کہاں کارواں بناتے ہیں ہم اپنے ہاتھ سے اپنا جہاں بناتے ہیں ستارے گڑھتے ہیں اور کہکشاں بناتے ہیں مجال کیا جو کسی گل کو چھو لے باد سموم ہم اپنے طرز عمل سے خزاں بناتے ہیں ہمارے ہاتھ مگر بے گھری ہی لگتی ہے زمیں بناتے ہیں ہم آسماں ...

    مزید پڑھیے

    پلٹ کے جانب اہل و عیال دیکھتا ہوں

    پلٹ کے جانب اہل و عیال دیکھتا ہوں کبھی جب اپنے لہو میں ابال دیکھتا ہوں ہنوز کچھ بھی بدلتا نظر نہیں آتا ہجوم دیکھتا ہوں اشتعال دیکھتا ہوں شکست و ریخت سے مجھ کو گزارتا ہے وہی اسی کے چہرے پہ گرد ملال دیکھتا ہوں سب ایک دھند لیے پھر رہے ہیں آنکھوں میں کسی کے چہرے پہ ماضی نہ حال ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 3