بس ایک سانس لیا کھل کے لخت لخت ہوا

بس ایک سانس لیا کھل کے لخت لخت ہوا
کہ زندگی نہ ہوئی کانچ کا درخت ہوا


بہت ذہین بھی ہونا وبال جاں ہے یہاں
ہمارے ساتھ ہر اک امتحان سخت ہوا


جہاں پہ مجھ کو حلیمی سے کام لینا تھا
اسی مقام پہ لہجہ مرا کرخت ہوا


نہ میں کسی کے لیے زاد وصل بن پایا
نہ ہجرتوں میں مرا کوئی ساز رخت ہوا


طلبؔ ہواؤں کے سینے پہ سانپ لوٹ گیا
پھر ایک ننھا سا پودا گھنا درخت ہوا