خورشید طلب کی غزل

    کہاں کسی کا بنایا ہوا بناتے ہیں

    کہاں کسی کا بنایا ہوا بناتے ہیں نیا بناتے ہیں جب ہم نیا بناتے ہیں کسی کا نقش بناتے ہیں لوح دل پر ہم کسی کا عکس سر آئینہ بناتے ہیں نیا بنانے کی حسرت کبھی نہیں مرتی نئے سرے سے نئے کو نیا بناتے ہیں میں اک زمین ہوں امن و اماں کی متلاشی مرے عزیز مجھے کربلا بناتے ہیں ہماری دشت نوردی ...

    مزید پڑھیے

    بڑا عجیب تھا اس کا وداع ہونا بھی

    بڑا عجیب تھا اس کا وداع ہونا بھی نہ ہو سکا مرا اس سے لپٹ کے رونا بھی فصیلیں چھونے لگی ہیں اب آسمانوں کو عجب ہے ایک دریچے کا بند ہونا بھی نہ کوئی خواب ہے آنکھوں میں اب نہ بیداری ترے سبب تھا مرا جاگنا بھی سونا بھی ترے فقیر کو اتنی سی جا بھی کافی ہے جو تیرے دل میں نکل آئے ایک کونا ...

    مزید پڑھیے

    سبب اس کی پریشانی کا میں ہوں

    سبب اس کی پریشانی کا میں ہوں نمک کی فصل وہ پانی کا میں ہوں یہ جنگل مجھ کو راس آنا نہیں ہے پرندہ دشت امکانی کا میں ہوں مری مشکل مری مشکل نہیں ہے وسیلہ تیری آسانی کا میں ہوں مجھے دنیا لٹا دے گی کوئی دن اثاثہ عالم فانی کا میں ہوں ابھی ساحل مرا رستہ نہ دیکھے ابھی دریا کی طغیانی کا ...

    مزید پڑھیے

    بدن ہے سبز اور شاداب لیکن روح پیاسی ہے

    بدن ہے سبز اور شاداب لیکن روح پیاسی ہے مرے اندر ہزاروں بانجھ پیڑوں کی اداسی ہے کسی کے دل سے اب جذبات کا رشتہ نہیں قائم ہنسی بھی مصلحت آمیز آنسو بھی سیاسی ہے پئے اظہار کچھ ایسا نہیں ہے جو انوکھا ہو ہر اک جذبہ پرانا ہے ہر اک احساس باسی ہے ہمیں ہر وقت یہ احساس دامن گیر رہتا ہے پڑے ...

    مزید پڑھیے

    بلا سے کوئی کہے دن کو رات چپ رہنا

    بلا سے کوئی کہے دن کو رات چپ رہنا تم اپنے ہونٹوں پہ رکھ لینا ہات چپ رہنا کہیں پہ کچھ بھی نظر آئے پوچھنا مت کچھ کبھی نکلنا اگر میرے ساتھ چپ رہنا خدا نے بخشا ہے کیا ظرف موم بتی کو پگھلتے رہنا مگر ساری رات چپ رہنا تمہارے سر پہ بگولے بھی آ کے چیخیں گے مگر بھلانا نہیں میری بات چپ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 3