نہ شہر میں نہ کسی دشت ہو میں خاک ہوئے

نہ شہر میں نہ کسی دشت ہو میں خاک ہوئے
ہمارے خواب ہمارے لہو میں خاک ہوئے


کسی کے ہاتھ لگا کب وہ ماہتاب بدن
کئی جیالے وہیں جستجو میں خاک ہوئے


دھواں سا اٹھتا ہے دل سے جو سوچتا ہوں کبھی
وہ کون تھے جو مری آرزو میں خاک ہوئے


تھے کتنے گیت جو آواز کو ترستے رہے
ہزار راگ رگ خوش گلو میں خاک ہوئے


اب اس سے اچھا بھلا اختتام کیا ہوتا
اٹھے تھے میں سے مگر جا کے تو میں خاک ہوئے