ہوا تو ہے ہی مخالف مجھے ڈراتا ہے کیا
ہوا تو ہے ہی مخالف مجھے ڈراتا ہے کیا ہوا سے پوچھ کے کوئی دیئے جلاتا ہے کیا گہر جو ہیں تہہ دریا تو سنگ و خشت بھی ہیں یہ دیکھنا ہے مری دسترس میں آتا ہے کیا نواح جاں میں جو چلتی ہے کیسی آندھی ہے دیئے کی لو کی طرح مجھ میں تھرتھراتا ہے کیا گلے میں نام کی تختی گلاب رکھتے ہیں چراغ اپنا ...