خورشید طلب کی غزل

    ہوا تو ہے ہی مخالف مجھے ڈراتا ہے کیا

    ہوا تو ہے ہی مخالف مجھے ڈراتا ہے کیا ہوا سے پوچھ کے کوئی دیئے جلاتا ہے کیا گہر جو ہیں تہہ دریا تو سنگ و خشت بھی ہیں یہ دیکھنا ہے مری دسترس میں آتا ہے کیا نواح جاں میں جو چلتی ہے کیسی آندھی ہے دیئے کی لو کی طرح مجھ میں تھرتھراتا ہے کیا گلے میں نام کی تختی گلاب رکھتے ہیں چراغ اپنا ...

    مزید پڑھیے

    سرمۂ چشم بنایا دل و جاں پر رکھا

    سرمۂ چشم بنایا دل و جاں پر رکھا زہر تھا پھر بھی اسے میں نے زباں پر رکھا اس خسارے میں عجب طرح کی سرشاری تھی دل کو مامور سدا کار زیاں پر رکھا کوئی روشن تو کرے آ کے خد و خال مرے حرف ایقان ہوں اوراق گماں پر رکھا آج دریا میں عجب شور عجب ہلچل ہے کس کی کشتی نے قدم آب رواں پر رکھا کیا ...

    مزید پڑھیے

    نہ میں دریا نہ مجھ میں زعم کوئی بیکرانی کا

    نہ میں دریا نہ مجھ میں زعم کوئی بیکرانی کا کہ میں ہوں بلبلے کی شکل میں احساس پانی کا محبت میں تری اپنی زباں کو سی لیا میں نے اثر زائل نہ ہو جائے تری جادو بیانی کا عجب کیا ہے جو میری داستان خونچکاں سے بھی کوئی پہلو نکل آئے کسی کی شادمانی کا میں اپنے پاؤں کی زنجیر اک دن خود ہی ...

    مزید پڑھیے

    لگتا ہے پیچ و تاب کے آگے کچھ اور ہے

    لگتا ہے پیچ و تاب کے آگے کچھ اور ہے اس شور انقلاب کے آگے کچھ اور ہے بے شک مرے سوال کے پیچھے ہے اور بات کیا تیرے اس جواب کے آگے کچھ اور ہے ہر چند میری آنکھوں نے دیکھا نہیں ہنوز لیکن طلسم خواب کے آگے کچھ اور ہے جو تجھ سے خوش جمال ہے اور دل فریب بھی دنیا ترے شباب کے آگے کچھ اور ...

    مزید پڑھیے

    پرندے بے قراری میں

    پرندے بے قراری میں مسلسل برف باری میں ہمیں کیوں زد میں آتے ہیں ہمیشہ چاند ماری میں ہماری قوم زندہ ہے فقط مردم شماری میں بہت نقصان ہوتا ہے زیادہ ہوشیاری میں کمی کچھ رہ گئی ہے کیا ہماری جاں نثاری میں قلم فیاض ہوتا تھا طلبؔ بے روزگاری میں

    مزید پڑھیے

    دھواں اڑاتے ہوئے دن کو رات کرتے ہوئے

    دھواں اڑاتے ہوئے دن کو رات کرتے ہوئے ملنگ آگ سے تطہیر ذات کرتے ہوئے کہا تو تھا یہ امانت سنبھال کر رکھنا ہماری نذر وہ کل کائنات کرتے ہوئے میں ایک جنگ خود اپنے خلاف لڑتا ہوا تمام عضو بدن مجھ سے گھات کرتے ہوئے کہ ہم بنے ہی نہ تھے ایک دوسرے کے لیے اب اس یقین کو جینا حیات کرتے ...

    مزید پڑھیے

    منظر کی دیوار کے پیچھے اک منظر

    منظر کی دیوار کے پیچھے اک منظر کالی چادر سے منہ ڈھانپے اک منظر میں جیسے ہی اک منظر تخلیق کروں آ کر فوراً اس کو کاٹے اک منظر چہرہ پڑھنا چاہوں تو اوجھل ہو جائے دور کھڑا پھر ہاتھ ہلائے اک منظر اک منظر چاقو سے گودے جسم مرا پھر آ کر زخموں کو چاٹے اک منظر اک منظر میں سانپ گلے سے آ ...

    مزید پڑھیے

    جس کو دیکھو وہی پیکار میں الجھا ہوا ہے

    جس کو دیکھو وہی پیکار میں الجھا ہوا ہے ہر گریبان کسی تار میں الجھا ہوا ہے دشت بے چین ہے وحشت کی پذیرائی کو دل وحشی در و دیوار میں الجھا ہوا ہے جنگ دستک لیے آ پہنچی ہے دروازے تک شاہزادہ لب و رخسار میں الجھا ہوا ہے اک حکایت لب اظہار پہ ہے سوختہ جاں ایک قصہ ابھی کردار میں الجھا ہوا ...

    مزید پڑھیے

    شدید حبس میں راحت ہوا سے ہوتی ہے

    شدید حبس میں راحت ہوا سے ہوتی ہے بحال اپنی طبیعت ہوا سے ہوتی ہے کوئی چراغ جلاتا نہیں سلیقے سے مگر سبھی کو شکایت ہوا سے ہوتی ہے لچک کے ٹوٹ نہ جائے کہیں یہ شاخ بدن چلے جو تیز تو وحشت ہوا سے ہوتی ہے کہیں دھویں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا کبھی کبھی وہ شرارت ہوا سے ہوتی ہے ہوا سے کہہ دو ...

    مزید پڑھیے

    رواں ہے نور کا اک سیل ہر بن مو سے

    رواں ہے نور کا اک سیل ہر بن مو سے مجھے چھوا ہے کسی نے ہزار پہلو سے بدل کے رکھ دیا جنگل کو شہر میں اس نے تمام دشت پریشاں ہے ایک آہو سے خدا کے واسطے اب روک بھی یہ رقص جنوں صدا کچھ اور ہی آنے لگی ہے گھنگھرو سے انہیں میں وقت کے کاندھے پہ ڈال دیتا ہوں جو بوجھ اٹھتے نہیں میرے دست و بازو ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 3