مٹاتے جاتے ہیں جو بھی نشاں بناتے ہیں

مٹاتے جاتے ہیں جو بھی نشاں بناتے ہیں
ہم اپنے پیچھے کہاں کارواں بناتے ہیں


ہم اپنے ہاتھ سے اپنا جہاں بناتے ہیں
ستارے گڑھتے ہیں اور کہکشاں بناتے ہیں


مجال کیا جو کسی گل کو چھو لے باد سموم
ہم اپنے طرز عمل سے خزاں بناتے ہیں


ہمارے ہاتھ مگر بے گھری ہی لگتی ہے
زمیں بناتے ہیں ہم آسماں بناتے ہیں


انہیں سنبھال کے رکھنا ہوا نہ دینا تم
ہمارے شعر یہ چنگاریاں بناتے ہیں


یقین رکھو یہ منظر بدلنے والا ہے
شرار اڑنے سے پہلے دھواں بناتے ہیں


کنویں سے پیاس کا رشتہ کوئی نیا ہے کیا
بنانے والے عبث داستاں بناتے ہیں


نیا بنانے کی دھن میں پتہ نہیں چلتا
کہاں بگاڑتے ہیں اور کہاں بناتے ہیں


کسی بزرگ کی صحبت میں بیٹھتے ہیں طلبؔ
بلا کی دھوپ ہے اب سائباں بناتے ہیں