خرم آفاق کی غزل

    بڑی مشکل سے نیچے بیٹھتے ہیں

    بڑی مشکل سے نیچے بیٹھتے ہیں جو تیرے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں اکیلے بیٹھنا ہوگا کسی کو اگر ہم تم اکٹھے بیٹھتے ہیں اور اب اٹھنا پڑا نا اگلی صف سے کہا بھی تھا کہ پیچھے بیٹھتے ہیں یہیں پر سلسلہ موقوف کر دو زیادہ تجربے لے بیٹھتے ہیں نگاہیں کیوں نہ ٹھہریں اس پہ آفاقؔ شجر پر ہی پرندے ...

    مزید پڑھیے

    ہم تو سمجھے تھے محبت کی لڑائی صاحب

    ہم تو سمجھے تھے محبت کی لڑائی صاحب آپ تلوار اٹھا لائے ہیں بھائی صاحب دھوپ تالاب کا حلیہ تو بدل سکتی ہے اتنی آسانی سے چھٹتی نہیں کائی صاحب خاک کو خاک پہ دھرنے کا مزہ اپنا ہے ہجر میں کون بچھاتا ہے چٹائی صاحب پھر بھی آوارگی ضائع نہیں جانے والی کوئی بھی چیز اگر ہاتھ نہ آئی صاحب

    مزید پڑھیے

    یہ ستارہ بھی ڈوب سکتا ہے

    یہ ستارہ بھی ڈوب سکتا ہے دل تمہارا بھی ڈوب سکتا ہے ساتھ رکھو بچانے والوں کو وہ دوبارہ بھی ڈوب سکتا ہے ڈوب سکتا ہے وہ اگر آدھا پھر تو سارا بھی ڈوب سکتا ہے اپنی کشتی تو اس بھنور میں ہے جس میں دھارا بھی ڈوب سکتا ہے جو بچاتا ہے ڈوبنے والے وہ ادارہ بھی ڈوب سکتا ہے

    مزید پڑھیے

    جب ہم مٹھی کھولیں گے

    جب ہم مٹھی کھولیں گے نئی کہانی کھولیں گے زخم کی عزت کرتے ہیں دیر سے پٹی کھولیں گے چہرہ پڑھنے والے چور گٹھری تھوڑی کھولیں گے دل کا وہم نکالیں گے گلے کی ڈوری کھولیں گے وہ خود تھوڑی آئے گا نوکر کنڈی کھولیں گے زور سے گانٹھ لگائی تھی دانت سے رسی کھولیں گے

    مزید پڑھیے

    جانے کیا آس لگائی ہے سفر سے میں نے

    جانے کیا آس لگائی ہے سفر سے میں نے ایک تنکا بھی اٹھایا نہیں گھر سے میں نے ورنہ چپ کس سے رہا جاتا ہے اتنا عرصہ تجھ کو دیکھا ہی نہیں ایسی نظر سے میں نے اتر آیا ہے حریفوں کی طرف داری پر وہ جسے سامنے کرنا تھا ادھر سے میں نے یوں نہ کر وصل کے لمحوں کو ہوس سے تعبیر چند پتے ہی تو توڑے ہیں ...

    مزید پڑھیے

    نتائج جب سر محشر ملیں گے

    نتائج جب سر محشر ملیں گے محبت کے الگ نمبر ملیں گے کوئی چالاک پانی پی گیا ہے گھڑے میں اب فقط کنکر ملیں گے یہ دیواریں کسی کی منتظر ہیں یہاں ہر سمت کلینڈر ملیں گے ہوا کی پیروی کرنی پڑے گی یوں ہی تھوڑی شجر جھک کر ملیں گے تمہاری میزبانی کے بہانے کوئی دن ہم بھی اپنے گھر ملیں گے

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2