خرم آفاق کے تمام مواد

16 غزل (Ghazal)

    دوا سے حل نہ ہوا تو دعا پہ چھوڑ دیا

    دوا سے حل نہ ہوا تو دعا پہ چھوڑ دیا ترا معاملہ ہم نے خدا پہ چھوڑ دیا بہت خیال رکھا میرا اور درختوں کا پھر اس نے دونوں کو آب و ہوا پہ چھوڑ دیا معاف وہ کریں جن کا قصوروار ہے تو عدالتوں نے تجھے کس بنا پہ چھوڑ دیا بغیر کچھ کہے میں نے پلٹنے کا سوچا اور ایک پھول در التجا پہ چھوڑ دیا

    مزید پڑھیے

    ایسے صحرا سے نہ رشتہ بن جائے

    ایسے صحرا سے نہ رشتہ بن جائے ایک بارش میں جو دریا بن جائے برا بنتا ہوں کہ شاید ایسے وہ مرے سامنے اچھا بن جائے کامیابی ترے پاؤں چومے تیرے گالوں پہ ستارہ بن جائے کوئی یادوں کے گھنے جنگل سے یوں گزرتا ہے کہ رستہ بن جائے پتھر اس وقت نظر آتے ہیں پانی جب آئنے جیسا بن جائے

    مزید پڑھیے

    کسی طرح سنبھل نہیں رہا ہوں میں

    کسی طرح سنبھل نہیں رہا ہوں میں کہ بہہ رہا ہوں چل نہیں رہا ہوں میں گلے لگا اے موسموں کے دیوتا بدل مجھے بدل نہیں رہا ہوں میں یہ سکھ بھی ہے کہ تیرے طاقچے میں ہوں یہ دکھ بھی ہے کہ جل نہیں رہا ہوں میں سوال پوچھنے لگے ہیں راستے سفر پہ کیوں نکل نہیں رہا ہوں میں طلوع ہو رہا ہوں دوسری ...

    مزید پڑھیے

    کوشش کے باوجود بھی ساکن نہیں رہا

    کوشش کے باوجود بھی ساکن نہیں رہا کچھ دن میں سامنے رہا کچھ دن نہیں رہا پہلے یہ ربط میری ضرورت بناؤ گے اور پھر کہو گے رابطہ ممکن نہیں رہا ہم ایک واردات سے تھوڑے ہی دور ہیں وہ ہاتھ لگ گیا ہے مگر چھن نہیں رہا اسکول کے دنوں سے مجھے جانتے ہو تم میں آج تک سوال کیے بن نہیں رہا اک رات اس ...

    مزید پڑھیے

    ہمیں بھی کام بہت ہے خزانے سے اس کے

    ہمیں بھی کام بہت ہے خزانے سے اس کے ذرا یہ لوگ تو اٹھیں سرہانے سے اس کے یہی نہ ہو کہ توجہ ہٹا لے وہ اپنی زیادہ دیر نہ بچنا نشانے سے اس کے وہ مجھ سے تازہ محبت پہ راضی ہے لیکن اصول اب بھی وہی ہیں پرانے سے اس کے وہ تیر اتنی رعایت کبھی نہیں دیتا یہ زخم لگتا نہیں ہے گھرانے سے اس کے وہ ...

    مزید پڑھیے

تمام