یہ ستارہ بھی ڈوب سکتا ہے
یہ ستارہ بھی ڈوب سکتا ہے
دل تمہارا بھی ڈوب سکتا ہے
ساتھ رکھو بچانے والوں کو
وہ دوبارہ بھی ڈوب سکتا ہے
ڈوب سکتا ہے وہ اگر آدھا
پھر تو سارا بھی ڈوب سکتا ہے
اپنی کشتی تو اس بھنور میں ہے
جس میں دھارا بھی ڈوب سکتا ہے
جو بچاتا ہے ڈوبنے والے
وہ ادارہ بھی ڈوب سکتا ہے