خرم آفاق کی غزل

    دوا سے حل نہ ہوا تو دعا پہ چھوڑ دیا

    دوا سے حل نہ ہوا تو دعا پہ چھوڑ دیا ترا معاملہ ہم نے خدا پہ چھوڑ دیا بہت خیال رکھا میرا اور درختوں کا پھر اس نے دونوں کو آب و ہوا پہ چھوڑ دیا معاف وہ کریں جن کا قصوروار ہے تو عدالتوں نے تجھے کس بنا پہ چھوڑ دیا بغیر کچھ کہے میں نے پلٹنے کا سوچا اور ایک پھول در التجا پہ چھوڑ دیا

    مزید پڑھیے

    ایسے صحرا سے نہ رشتہ بن جائے

    ایسے صحرا سے نہ رشتہ بن جائے ایک بارش میں جو دریا بن جائے برا بنتا ہوں کہ شاید ایسے وہ مرے سامنے اچھا بن جائے کامیابی ترے پاؤں چومے تیرے گالوں پہ ستارہ بن جائے کوئی یادوں کے گھنے جنگل سے یوں گزرتا ہے کہ رستہ بن جائے پتھر اس وقت نظر آتے ہیں پانی جب آئنے جیسا بن جائے

    مزید پڑھیے

    کسی طرح سنبھل نہیں رہا ہوں میں

    کسی طرح سنبھل نہیں رہا ہوں میں کہ بہہ رہا ہوں چل نہیں رہا ہوں میں گلے لگا اے موسموں کے دیوتا بدل مجھے بدل نہیں رہا ہوں میں یہ سکھ بھی ہے کہ تیرے طاقچے میں ہوں یہ دکھ بھی ہے کہ جل نہیں رہا ہوں میں سوال پوچھنے لگے ہیں راستے سفر پہ کیوں نکل نہیں رہا ہوں میں طلوع ہو رہا ہوں دوسری ...

    مزید پڑھیے

    کوشش کے باوجود بھی ساکن نہیں رہا

    کوشش کے باوجود بھی ساکن نہیں رہا کچھ دن میں سامنے رہا کچھ دن نہیں رہا پہلے یہ ربط میری ضرورت بناؤ گے اور پھر کہو گے رابطہ ممکن نہیں رہا ہم ایک واردات سے تھوڑے ہی دور ہیں وہ ہاتھ لگ گیا ہے مگر چھن نہیں رہا اسکول کے دنوں سے مجھے جانتے ہو تم میں آج تک سوال کیے بن نہیں رہا اک رات اس ...

    مزید پڑھیے

    ہمیں بھی کام بہت ہے خزانے سے اس کے

    ہمیں بھی کام بہت ہے خزانے سے اس کے ذرا یہ لوگ تو اٹھیں سرہانے سے اس کے یہی نہ ہو کہ توجہ ہٹا لے وہ اپنی زیادہ دیر نہ بچنا نشانے سے اس کے وہ مجھ سے تازہ محبت پہ راضی ہے لیکن اصول اب بھی وہی ہیں پرانے سے اس کے وہ تیر اتنی رعایت کبھی نہیں دیتا یہ زخم لگتا نہیں ہے گھرانے سے اس کے وہ ...

    مزید پڑھیے

    ہر کوئی اپنے گھر پلٹ گیا ہے

    ہر کوئی اپنے گھر پلٹ گیا ہے مسئلہ خیر سے نمٹ گیا ہے کان مانوس ہوتے جائیں گے اور لگے گا کہ شور گھٹ گیا ہے وہ بھی خاموش ہو گیا میں بھی یوں لگا جیسے فون کٹ گیا ہے اک قدم میں نے آگے کیا رکھا دو قدم کوئی پیچھے ہٹ گیا ہے ہاتھ آنکھوں پہ رکھ کے چلتے ہیں راستہ اب تو اتنا رٹ گیا ہے

    مزید پڑھیے

    جانے کیا آس لگائی ہے سفر سے میں نے

    جانے کیا آس لگائی ہے سفر سے میں نے ایک تنکا بھی اٹھایا نہیں گھر سے میں نے ورنہ چپ کس سے رہا جاتا ہے اتنا عرصہ تجھ کو دیکھا ہی نہیں ایسی نظر سے میں نے اتر آیا ہے حریفوں کی طرف داری پر وہ جسے سامنے کرنا تھا ادھر سے میں نے یوں نہ کر وصل کے لمحوں کو ہوس سے تعبیر چند پتے ہی تو توڑے ہیں ...

    مزید پڑھیے

    طوفان کی امید تھی آندھی نہیں آئی

    طوفان کی امید تھی آندھی نہیں آئی وہ آپ تو کیا اس کی خبر بھی نہیں آئی کچھ آنکھوں میں تو ہو گیا آباد وہ چہرہ کچھ بستیوں میں آج بھی بجلی نہیں آئی ہر روز پلٹ آتے تھے مہمان کسی کے ہر روز یہ کہتے تھے کہ گاڑی نہیں آئی وہ آگ بجھی تو ہمیں موسم نے جھنجھوڑا ورنہ یہی لگتا تھا کہ سردی نہیں ...

    مزید پڑھیے

    اپنا ہوتا نہ کسی چشم دگر میں رہتا

    اپنا ہوتا نہ کسی چشم دگر میں رہتا اور کچھ روز جو میں تیری نظر میں رہتا فاصلہ دیکھ ذرا رزق و محبت کے بیچ اور خود سوچ کہ کب تک میں سفر میں رہتا کوئی اپنوں کے علاوہ بھی نبھاتا مرا ساتھ کوئی لہروں کے علاوہ بھی بھنور میں رہتا اپنی امید تو سرحد پہ ہی دم توڑ گئی اب وہ ایران میں رہتا کہ ...

    مزید پڑھیے

    اگر کنارے پہ ٹھیرنے کی جگہ نہیں ہے

    اگر کنارے پہ ٹھیرنے کی جگہ نہیں ہے تو اس سفینے سے اچھی کوئی جگہ نہیں ہے جو ہو سکے تو ابھی سے سامان باندھ لیجے وہ خود نہ کہہ دے یہاں پر اتنی جگہ نہیں ہے ترے برابر میں رہنے والے تو کہتے ہوں گے کہ اس زمیں پر کہیں بھی ایسی جگہ نہیں ہے تو کیوں نہ خاموش رہ کے ہمدردیاں سمیٹیں اسے پتہ ہے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2