جانے کیا آس لگائی ہے سفر سے میں نے

جانے کیا آس لگائی ہے سفر سے میں نے
ایک تنکا بھی اٹھایا نہیں گھر سے میں نے


ورنہ چپ کس سے رہا جاتا ہے اتنا عرصہ
تجھ کو دیکھا ہی نہیں ایسی نظر سے میں نے


اتر آیا ہے حریفوں کی طرف داری پر
وہ جسے سامنے کرنا تھا ادھر سے میں نے


یوں نہ کر وصل کے لمحوں کو ہوس سے تعبیر
چند پتے ہی تو توڑے ہیں شجر سے میں نے


دیکھنی ہو کبھی بے چینی تو ان سے ملنا
جن کو روکا ہے تری خیر خبر سے میں نے