Khumar Mirzada

خمار میرزادہ

خمار میرزادہ کی غزل

    ہم کہ تھے خوش فہم دن کی بے پناہی دیکھ کر

    ہم کہ تھے خوش فہم دن کی بے پناہی دیکھ کر ہاتھ ملتے رہ گئے شب کی سیاہی دیکھ کر کون دامن دیکھتا ہے کون سنتا ہے دلیل جرم ثابت ہو رہا ہے بے گناہی دیکھ کر ہم نہ کہتے تھے دنوں میں اک ہمارا دن بھی ہے دن بدلتے ہیں ہماری داد خواہی دیکھ کر دلبری سے خود پرستی نے رکھا نا آشنا رکتے رکتے رک ...

    مزید پڑھیے

    دل گوارہ چبھن ہی مرتی ہے

    دل گوارہ چبھن ہی مرتی ہے اب تمہاری لگن ہی مرتی ہے قدر کیا دعویٔ انا الحق کی فکر دار و رسن ہی مرتی ہے روح کی بحث کس لیے کہ یہاں آرزوئے بدن ہی مرتی ہے شام گوشہ نشینی کیا کیجے صبح سیر چمن ہی مرتی ہے اس کہانی میں اک روایت سے کیوں کوئی گل بدن ہی مرتی ہے

    مزید پڑھیے

    نم ترسیل کے سوتوں کو چھپائے رکھا

    نم ترسیل کے سوتوں کو چھپائے رکھا مجھ سماعت نے صداؤں کو چھپائے رکھا پیڑ جلتے رہے آوارہ رہی گرد ملال دھوپ نے ابر کی چھاؤں کو چھپائے رکھا طاق تھا خواب تھا تنہائی تھی تاریکی تھی رات نے صرف چراغوں کو چھپائے رکھا عشق میں ہم نے تمناؤں کی وحدت کے لیے ایک دوجے سے مزاجوں کو چھپائے ...

    مزید پڑھیے

    ہر چند کہ لائے تھے جگر چیر کے موتی

    ہر چند کہ لائے تھے جگر چیر کے موتی ارزاں ہی رہے نالۂ شب گیر کے موتی اک ماں نے بلکتے ہوئے بچوں کے لیے شب بیچے کسی بازار میں توقیر کے موتی ہر رنگ جماتے ہیں یقیں تاب بدن کا ان خواب سے ہونٹوں پہ اساطیر کے موتی دہلیز محبت سے سمیٹے ہیں ہمیشہ تارے کسی شیریں کے کسی ہیر کے موتی خاموشی ...

    مزید پڑھیے

    حکایتوں سے فسانوں سے ریت اڑتی ہے

    حکایتوں سے فسانوں سے ریت اڑتی ہے یہاں قدیم زمانوں سے ریت اڑتی ہے نشیب جاں سے امڈتے ہیں تازہ رو دریا بلند بام مکانوں سے ریت اڑتی ہے لپک الگ ہے چمک اور ہے للک ہے جدا یہ کیسی کیسی اٹھانوں سے ریت اڑتی ہے یہاں کتابوں سے جھڑتی ہیں بھربھری صدیاں اور ایک شیلف کے خانوں سے ریت اڑتی ...

    مزید پڑھیے

    اس ایک ڈر میں کہ آخر کو ٹوٹ جائے گا

    اس ایک ڈر میں کہ آخر کو ٹوٹ جائے گا یہ آئنہ مرے ہاتھوں سے چھوٹ جائے گا میں توڑ سکتا ہوں پل میں سکوت سنگ نسب مگر یہ دھیان کہ اک شخص روٹھ جائے گا ضرور بجھ کے رہے گا رخ سفر طلبی یہ آبلہ ہے تو اک روز پھوٹ جائے گا یقین تھا کہ کوئی سانحہ گزرنا ہے گماں نہ تھا کہ ترا ساتھ چھوٹ جائے گا ہم ...

    مزید پڑھیے

    اک رنگ سا چھلکا تھا مگر باس نہ آئی

    اک رنگ سا چھلکا تھا مگر باس نہ آئی وہ موج گذشتہ بھی کوئی خاص نہ آئی اس بات پہ حجت ہیں چہکتے ہوئے قریے ہر شخص کو جنگل کی فضا راس نہ آئی خوں ہو کے اگرچہ دل صد چاک بھی ٹپکا ہاتھوں میں ولیکن رگ احساس نہ آئی تب رنج کھلے دھوپ گنوا دینے کے ہم پر ان سیم زدہ کنجوں میں جب گھاس نہ آئی پانی ...

    مزید پڑھیے

    بال شیشے میں کہیں بال سے میں ہوتا ہوں

    بال شیشے میں کہیں بال سے میں ہوتا ہوں بے یقینی میں پڑے جال سے میں ہوتا ہوں ایسا بیمار بناتی ہے تری آنکھ مجھے ایسے گلنار ترے گال سے میں ہوتا ہوں تجھ پہ وہ عمر گزاری میں کہیں آئے نہ آئے شعر کہتے ہوئے جس حال سے میں ہوتا ہوں دام و درہم ہنر خواب کے بدلے لاؤ ایسے مرعوب کہاں مال سے میں ...

    مزید پڑھیے

    ہو کے آئینہ مقابل بھی رہا رد کہ نہیں

    ہو کے آئینہ مقابل بھی رہا رد کہ نہیں درمیاں آج بھی ہے ہجر کی سرحد کہ نہیں دلبراں یوں ہی نہ تھی کفر پرستی دل کی فتنۂ صبح قیامت ہے ترا قد کہ نہیں ہاں بتا وہم سے کترائے ہوئے حسن یقیں ننگ تحقیق ہوئی رسم اب و جد کہ نہیں دل سے اس رشک چراغ حرم و دیر کے بعد ہے وہی وحشت تاریکیٔ معبد کی ...

    مزید پڑھیے

    کہاں سنبھلتے ہیں بہتے ہوئے بہاؤ میں لوگ

    کہاں سنبھلتے ہیں بہتے ہوئے بہاؤ میں لوگ مگر جو زخم اٹھائیں گے اس چناؤ میں لوگ تمہارے نیم تبسم سے صاف ظاہر ہے ہم ایسے مار دیے جائیں رکھ رکھاؤ میں لوگ یہ میرے حق میں لگاتار بولتے ہوئے اب کسی نتیجے پہ پہنچے ترے دباؤ میں لوگ دہک رہا ہے ابھی سے رخ زیاں کاری سفر کا جائزہ لیں گے کسی ...

    مزید پڑھیے