ہم کہ تھے خوش فہم دن کی بے پناہی دیکھ کر
ہم کہ تھے خوش فہم دن کی بے پناہی دیکھ کر
ہاتھ ملتے رہ گئے شب کی سیاہی دیکھ کر
کون دامن دیکھتا ہے کون سنتا ہے دلیل
جرم ثابت ہو رہا ہے بے گناہی دیکھ کر
ہم نہ کہتے تھے دنوں میں اک ہمارا دن بھی ہے
دن بدلتے ہیں ہماری داد خواہی دیکھ کر
دلبری سے خود پرستی نے رکھا نا آشنا
رکتے رکتے رک گئے ہم کم نگاہی دیکھ کر
حرف بے معنی سے بہتر ہے نوائے بے صدا
رو پڑا میں وقت کی ویراں نگاہی دیکھ کر
خاک پر لکھے گئے ہم خاک پر رکھے گئے
لہلہائے سبزگی کی خوش گیاہی دیکھ کر
دل نشیں ہے غنچۂ نو وقت لیکن کب تلک
دل لہو ہے شاخ گل کی کج کلاہی دیکھ کر
کتنے ایسے درد ہیں جن کی دوا چاہی گئی
سوچتا ہوں زخم دل کی بار گاہی دیکھ کر
دیدۂ سیلاب جو کی دشت پیرائی خمار
عالم خاشاک کی دیکھی تباہی دیکھ کر