Khumar Mirzada

خمار میرزادہ

خمار میرزادہ کی نظم

    اثاثہ

    تیرے میرے دکھ سکھ میں رت کا جادو باقی ہے چھوڑ کے پختہ رنگوں کو اور نہیں کچھ خام رات ادھورے جاڑے کی ساون کی اک شام

    مزید پڑھیے

    آج

    آج کے دن تو یوں لگتا ہے جیسے لمحہ لمحہ تیری آنکھوں سے جھلمل جھلمل جھانکتا ہو ٹپک ٹپک کے قطرہ قطرہ تیرے میرے خواب کی دھن بنتا ہو آج کے دن تو ہر اک لمحہ رگ رگ دیپک آگ لگاتا ڈھلتا گھٹتا جاتا ہے بہتے بہتے سمے کا دھارا بہتا جاتا ہے ایک بھنور ہے اک ٹھہراؤ جن کے بیچ میں آج کے دن کا ہر اک ...

    مزید پڑھیے

    وبا کے دنوں میں محبت

    وبا کے دنوں میں محبت سلیقہ شعاری سکھاتی ہے باتوں میں اک تازگی کی گھلاوٹ ہنسی میں چھپا اجتماعی تأسف دکھاتی ہے ہم بات کرنے کے موضوع پوروں پہ گنتے ہیں چہروں پہ پھیلے ہوئے ماسک ہم کم نماؤں میں خود اعتمادی بڑھاتے ہیں ہم اپنے ہاتھوں پہ دستانے کھینچے کسی لمس کی یاد میں تمتماتے ...

    مزید پڑھیے

    وہ عورت تھی

    وہ عورت تھی مگر اک روپ میں ہونا اسے ہرگز نہ بھاتا تھا وہ ہمت میں کوئی مرد توانا تھی جسے محنت محبت اور انسانی زمانی جاودانی فلسفوں کے تحت جینا تھا وہ ایسی راہبہ تھی جس کے دامن میں دعائیں تھیں دوائیں تھیں مناجاتیں تمنائیں وفائیں کامنائیں سب اسے تقسیم کرنا تھا وہ ماں تھی جس نے ...

    مزید پڑھیے

    اقرار

    چلو ہم مان لیتے ہیں ہمارے درمیاں تہذیب تھی اک زخم خواہش کی بندھے تھے جس سے ہم دونوں بہت مضبوط بندھن میں چلو ہم مان لیتے ہیں ہمارے خواب الجھاؤ کے پھیلاؤ پہ مبنی تھے جڑے تھے جس سے ہم دونوں مسلسل ایک الجھن میں چلو ہم مان لیتے ہیں کہ زخم خواہش و خواب محبت رائگانی تھی مگر سب کچھ اگر ...

    مزید پڑھیے

    یہی سب کچھ ہے

    یہی سب کچھ ہے اگر ٹھہری ہوئی گہری نظر سے دیکھو بے سبب آنکھ سے بہتی ہوئی اشکوں کی قطار کپکپاتے ہوئے ہونٹوں کا سکوت جسم کے تند مہ و سال زمانے کی جھلستی ہوئی دوپہر میں سائے کے سلگتے اندام سانس کی لہر سے لرزا ہوا زلفوں کا حصار رقص کرتی ہوئی خواہش سے چھلکتے ہوئے زرد ایام تمام مان ...

    مزید پڑھیے

    پیاس

    وہ دور پیاسی زمیں کو دیکھو کہ جس کے دامن کی وسعتوں میں ضرورتیں لے رہی ہیں انگڑائیاں مسلسل افق افق پر انڈیلتی ہیں سراب کرتی ہیں ہر جہت کو غبار پہنائیاں مسلسل وہ دور پیاسی زمیں کو دیکھو جھلستی آنکھوں سے دیکھتی ہے فلک کی جانب دہکتے ہونٹوں سے چاہتی ہے سلگتے لہجے سے کہہ رہی ہے کوئی ...

    مزید پڑھیے