اثاثہ
تیرے میرے دکھ سکھ میں رت کا جادو باقی ہے چھوڑ کے پختہ رنگوں کو اور نہیں کچھ خام رات ادھورے جاڑے کی ساون کی اک شام
تیرے میرے دکھ سکھ میں رت کا جادو باقی ہے چھوڑ کے پختہ رنگوں کو اور نہیں کچھ خام رات ادھورے جاڑے کی ساون کی اک شام
آج کے دن تو یوں لگتا ہے جیسے لمحہ لمحہ تیری آنکھوں سے جھلمل جھلمل جھانکتا ہو ٹپک ٹپک کے قطرہ قطرہ تیرے میرے خواب کی دھن بنتا ہو آج کے دن تو ہر اک لمحہ رگ رگ دیپک آگ لگاتا ڈھلتا گھٹتا جاتا ہے بہتے بہتے سمے کا دھارا بہتا جاتا ہے ایک بھنور ہے اک ٹھہراؤ جن کے بیچ میں آج کے دن کا ہر اک ...
وبا کے دنوں میں محبت سلیقہ شعاری سکھاتی ہے باتوں میں اک تازگی کی گھلاوٹ ہنسی میں چھپا اجتماعی تأسف دکھاتی ہے ہم بات کرنے کے موضوع پوروں پہ گنتے ہیں چہروں پہ پھیلے ہوئے ماسک ہم کم نماؤں میں خود اعتمادی بڑھاتے ہیں ہم اپنے ہاتھوں پہ دستانے کھینچے کسی لمس کی یاد میں تمتماتے ...
وہ عورت تھی مگر اک روپ میں ہونا اسے ہرگز نہ بھاتا تھا وہ ہمت میں کوئی مرد توانا تھی جسے محنت محبت اور انسانی زمانی جاودانی فلسفوں کے تحت جینا تھا وہ ایسی راہبہ تھی جس کے دامن میں دعائیں تھیں دوائیں تھیں مناجاتیں تمنائیں وفائیں کامنائیں سب اسے تقسیم کرنا تھا وہ ماں تھی جس نے ...
چلو ہم مان لیتے ہیں ہمارے درمیاں تہذیب تھی اک زخم خواہش کی بندھے تھے جس سے ہم دونوں بہت مضبوط بندھن میں چلو ہم مان لیتے ہیں ہمارے خواب الجھاؤ کے پھیلاؤ پہ مبنی تھے جڑے تھے جس سے ہم دونوں مسلسل ایک الجھن میں چلو ہم مان لیتے ہیں کہ زخم خواہش و خواب محبت رائگانی تھی مگر سب کچھ اگر ...
یہی سب کچھ ہے اگر ٹھہری ہوئی گہری نظر سے دیکھو بے سبب آنکھ سے بہتی ہوئی اشکوں کی قطار کپکپاتے ہوئے ہونٹوں کا سکوت جسم کے تند مہ و سال زمانے کی جھلستی ہوئی دوپہر میں سائے کے سلگتے اندام سانس کی لہر سے لرزا ہوا زلفوں کا حصار رقص کرتی ہوئی خواہش سے چھلکتے ہوئے زرد ایام تمام مان ...
وہ دور پیاسی زمیں کو دیکھو کہ جس کے دامن کی وسعتوں میں ضرورتیں لے رہی ہیں انگڑائیاں مسلسل افق افق پر انڈیلتی ہیں سراب کرتی ہیں ہر جہت کو غبار پہنائیاں مسلسل وہ دور پیاسی زمیں کو دیکھو جھلستی آنکھوں سے دیکھتی ہے فلک کی جانب دہکتے ہونٹوں سے چاہتی ہے سلگتے لہجے سے کہہ رہی ہے کوئی ...