کہاں سنبھلتے ہیں بہتے ہوئے بہاؤ میں لوگ
کہاں سنبھلتے ہیں بہتے ہوئے بہاؤ میں لوگ
مگر جو زخم اٹھائیں گے اس چناؤ میں لوگ
تمہارے نیم تبسم سے صاف ظاہر ہے
ہم ایسے مار دیے جائیں رکھ رکھاؤ میں لوگ
یہ میرے حق میں لگاتار بولتے ہوئے اب
کسی نتیجے پہ پہنچے ترے دباؤ میں لوگ
دہک رہا ہے ابھی سے رخ زیاں کاری
سفر کا جائزہ لیں گے کسی پڑاؤ میں لوگ
کہانی جب کہیں دھندلا کے نقش کھونے لگے
سراپا دیکھ لیا کرتے ہیں الاؤ میں لوگ
تو اپنے وقت کا یوسف ہے اور سر بازار
تجھے گنوا ہی نہ دیں ایسے بھاؤ تاؤ میں لوگ