ہر چند کہ لائے تھے جگر چیر کے موتی

ہر چند کہ لائے تھے جگر چیر کے موتی
ارزاں ہی رہے نالۂ شب گیر کے موتی


اک ماں نے بلکتے ہوئے بچوں کے لیے شب
بیچے کسی بازار میں توقیر کے موتی


ہر رنگ جماتے ہیں یقیں تاب بدن کا
ان خواب سے ہونٹوں پہ اساطیر کے موتی


دہلیز محبت سے سمیٹے ہیں ہمیشہ
تارے کسی شیریں کے کسی ہیر کے موتی


خاموشی کہے گی خلش جاں کا فسانہ
پلکوں سے چنے جائیں گے تاثیر کے موتی


ظلمت کدۂ فکر میں تاباں ہیں ازل سے
غالب کے کہیں میرؔ تقی میرؔ کے موتی


کافی سے زیادہ ہے یہ تاوان جنوں کا
ہیں کاسۂ زانو میں جو زنجیر کے موتی


ہو جائیں گے مجھ ایسے سیہ کار کی خاطر
بخشش کا وسیلہ غم شبیر کے موتی