اک رنگ سا چھلکا تھا مگر باس نہ آئی
اک رنگ سا چھلکا تھا مگر باس نہ آئی
وہ موج گذشتہ بھی کوئی خاص نہ آئی
اس بات پہ حجت ہیں چہکتے ہوئے قریے
ہر شخص کو جنگل کی فضا راس نہ آئی
خوں ہو کے اگرچہ دل صد چاک بھی ٹپکا
ہاتھوں میں ولیکن رگ احساس نہ آئی
تب رنج کھلے دھوپ گنوا دینے کے ہم پر
ان سیم زدہ کنجوں میں جب گھاس نہ آئی
پانی بھی الگ چھان کے رکھا تھا لہو سے
لیکن کسی پیرائے میں اک پیاس نہ آئی
سو بار چراغوں کو منڈیروں پہ دھرا ہے
آنکھوں کے جھروکوں میں کوئی آس نہ آئی
اے باد صبا موج پریشاں نہ ہوا کر
تو دور کہاں تھی کہ مرے پاس نہ آئی