Khumar Mirzada

خمار میرزادہ

خمار میرزادہ کے تمام مواد

10 غزل (Ghazal)

    ہم کہ تھے خوش فہم دن کی بے پناہی دیکھ کر

    ہم کہ تھے خوش فہم دن کی بے پناہی دیکھ کر ہاتھ ملتے رہ گئے شب کی سیاہی دیکھ کر کون دامن دیکھتا ہے کون سنتا ہے دلیل جرم ثابت ہو رہا ہے بے گناہی دیکھ کر ہم نہ کہتے تھے دنوں میں اک ہمارا دن بھی ہے دن بدلتے ہیں ہماری داد خواہی دیکھ کر دلبری سے خود پرستی نے رکھا نا آشنا رکتے رکتے رک ...

    مزید پڑھیے

    دل گوارہ چبھن ہی مرتی ہے

    دل گوارہ چبھن ہی مرتی ہے اب تمہاری لگن ہی مرتی ہے قدر کیا دعویٔ انا الحق کی فکر دار و رسن ہی مرتی ہے روح کی بحث کس لیے کہ یہاں آرزوئے بدن ہی مرتی ہے شام گوشہ نشینی کیا کیجے صبح سیر چمن ہی مرتی ہے اس کہانی میں اک روایت سے کیوں کوئی گل بدن ہی مرتی ہے

    مزید پڑھیے

    نم ترسیل کے سوتوں کو چھپائے رکھا

    نم ترسیل کے سوتوں کو چھپائے رکھا مجھ سماعت نے صداؤں کو چھپائے رکھا پیڑ جلتے رہے آوارہ رہی گرد ملال دھوپ نے ابر کی چھاؤں کو چھپائے رکھا طاق تھا خواب تھا تنہائی تھی تاریکی تھی رات نے صرف چراغوں کو چھپائے رکھا عشق میں ہم نے تمناؤں کی وحدت کے لیے ایک دوجے سے مزاجوں کو چھپائے ...

    مزید پڑھیے

    ہر چند کہ لائے تھے جگر چیر کے موتی

    ہر چند کہ لائے تھے جگر چیر کے موتی ارزاں ہی رہے نالۂ شب گیر کے موتی اک ماں نے بلکتے ہوئے بچوں کے لیے شب بیچے کسی بازار میں توقیر کے موتی ہر رنگ جماتے ہیں یقیں تاب بدن کا ان خواب سے ہونٹوں پہ اساطیر کے موتی دہلیز محبت سے سمیٹے ہیں ہمیشہ تارے کسی شیریں کے کسی ہیر کے موتی خاموشی ...

    مزید پڑھیے

    حکایتوں سے فسانوں سے ریت اڑتی ہے

    حکایتوں سے فسانوں سے ریت اڑتی ہے یہاں قدیم زمانوں سے ریت اڑتی ہے نشیب جاں سے امڈتے ہیں تازہ رو دریا بلند بام مکانوں سے ریت اڑتی ہے لپک الگ ہے چمک اور ہے للک ہے جدا یہ کیسی کیسی اٹھانوں سے ریت اڑتی ہے یہاں کتابوں سے جھڑتی ہیں بھربھری صدیاں اور ایک شیلف کے خانوں سے ریت اڑتی ...

    مزید پڑھیے

تمام

7 نظم (Nazm)

    اثاثہ

    تیرے میرے دکھ سکھ میں رت کا جادو باقی ہے چھوڑ کے پختہ رنگوں کو اور نہیں کچھ خام رات ادھورے جاڑے کی ساون کی اک شام

    مزید پڑھیے

    آج

    آج کے دن تو یوں لگتا ہے جیسے لمحہ لمحہ تیری آنکھوں سے جھلمل جھلمل جھانکتا ہو ٹپک ٹپک کے قطرہ قطرہ تیرے میرے خواب کی دھن بنتا ہو آج کے دن تو ہر اک لمحہ رگ رگ دیپک آگ لگاتا ڈھلتا گھٹتا جاتا ہے بہتے بہتے سمے کا دھارا بہتا جاتا ہے ایک بھنور ہے اک ٹھہراؤ جن کے بیچ میں آج کے دن کا ہر اک ...

    مزید پڑھیے

    وبا کے دنوں میں محبت

    وبا کے دنوں میں محبت سلیقہ شعاری سکھاتی ہے باتوں میں اک تازگی کی گھلاوٹ ہنسی میں چھپا اجتماعی تأسف دکھاتی ہے ہم بات کرنے کے موضوع پوروں پہ گنتے ہیں چہروں پہ پھیلے ہوئے ماسک ہم کم نماؤں میں خود اعتمادی بڑھاتے ہیں ہم اپنے ہاتھوں پہ دستانے کھینچے کسی لمس کی یاد میں تمتماتے ...

    مزید پڑھیے

    وہ عورت تھی

    وہ عورت تھی مگر اک روپ میں ہونا اسے ہرگز نہ بھاتا تھا وہ ہمت میں کوئی مرد توانا تھی جسے محنت محبت اور انسانی زمانی جاودانی فلسفوں کے تحت جینا تھا وہ ایسی راہبہ تھی جس کے دامن میں دعائیں تھیں دوائیں تھیں مناجاتیں تمنائیں وفائیں کامنائیں سب اسے تقسیم کرنا تھا وہ ماں تھی جس نے ...

    مزید پڑھیے

    اقرار

    چلو ہم مان لیتے ہیں ہمارے درمیاں تہذیب تھی اک زخم خواہش کی بندھے تھے جس سے ہم دونوں بہت مضبوط بندھن میں چلو ہم مان لیتے ہیں ہمارے خواب الجھاؤ کے پھیلاؤ پہ مبنی تھے جڑے تھے جس سے ہم دونوں مسلسل ایک الجھن میں چلو ہم مان لیتے ہیں کہ زخم خواہش و خواب محبت رائگانی تھی مگر سب کچھ اگر ...

    مزید پڑھیے

تمام