ہم کہ تھے خوش فہم دن کی بے پناہی دیکھ کر
ہم کہ تھے خوش فہم دن کی بے پناہی دیکھ کر ہاتھ ملتے رہ گئے شب کی سیاہی دیکھ کر کون دامن دیکھتا ہے کون سنتا ہے دلیل جرم ثابت ہو رہا ہے بے گناہی دیکھ کر ہم نہ کہتے تھے دنوں میں اک ہمارا دن بھی ہے دن بدلتے ہیں ہماری داد خواہی دیکھ کر دلبری سے خود پرستی نے رکھا نا آشنا رکتے رکتے رک ...