عمر رفتہ کی نظم
تتلیاں خوش رنگ کتنی اڑ رہی ہیں ایک بچہ انگلیوں کا جال پھیلائے کھڑا ہے اور اس کی انگلیوں سے کتنی میٹھی خواہشیں لپٹی ہوئی ہیں اس کو ہے معلوم تتلی چوستی ہے ساغر گل سے شکرآمیز رس وہ منتظر ہے تتلیاں خوش رنگ آئیں گی یقیناً زیر دام
تتلیاں خوش رنگ کتنی اڑ رہی ہیں ایک بچہ انگلیوں کا جال پھیلائے کھڑا ہے اور اس کی انگلیوں سے کتنی میٹھی خواہشیں لپٹی ہوئی ہیں اس کو ہے معلوم تتلی چوستی ہے ساغر گل سے شکرآمیز رس وہ منتظر ہے تتلیاں خوش رنگ آئیں گی یقیناً زیر دام
ناشنیدہ ساعتوں کا منتظر ہوں انگنت گزرے ہوئے لمحوں کی چیخیں نخل جاں کی سبز شاخوں میں سرایت کر چکی ہیں میرے اندر ایک ہنگامہ بپا ہے ایک ایسی بے خودی طاری ہے مجھ پر میں اگلتا جا رہا ہوں بے پنہ زخمی صداؤں کی حرارت سوچتا ہوں اپنی یہ پر شور ہستی اک غنائی چاپ کو سننے کی خاطر بے پنہ زخمی ...
خداوندا مری مجہول فطرت پر منڈھی ہے کینچلی کیسی کہ جس پر ناخن تدبیر کا جادو نہیں چلتا سبھی آلات جراحی کو میں نے آزمایا ہے مگر وہ کینچلی ہے ہستیٔ خود کی عجب عاشق چپک کر رہ گئی ہے جو مرے ٹھنڈے مساموں سے خداوندا مری مجہول فطرت کو حقیقت آشنا کر دے سراپا آئینہ کر دے
کون ہے وہ جو گزرتا ہے فقط آنکھوں سے ہو کر آبنائے ذہن کی لہروں کو چھوتا اسپ آبی اور ستارہ مچھلیوں کو سات رنگوں کی قبائے خواب دیتا پھیل جاتا ہے وہ میرے سوچ ساگر کی تہوں میں کون ہے وہ جو مری شب ریز آنکھوں کو مجازی جال میں الجھا رہا ہے منظروں سے سچ کی موسیقی چرا کر منظروں کی روح کو بے ...
رات کی نمناک زلفوں میں ابھی کاذب سویرا ہو رہا ہے اے ستارو کیا نہیں معلوم تم کو آج میں ایوان ہستی سے نکل کر خواب زار زندگی میں منتشر ہوں نیند کی باد صبا آنکھوں سے ہٹ کر بہہ رہی ہے میرے اندر روح جوئے کہکشاں ہے جس سے میری ہستیٔ ظاہر ہے تاباں ہستیٔ باطن کے روشن آسماں پر متقی انوار میں ...
نہ جانے کون سی ساعت میں یہ گمان ہوا بعید خواب کے روزن سے جھانکتا ہے کوئی غنودہ ذہن کے آفاق ہو گئے روشن کسل کے ساتھ شعور زماں ہوا بیدار پس شعور جو بکھرے پڑے تھے مشکیزے طلوع ذات کے احساس سے ہوئے لبریز مگر وہ خواب جو غرق شعور تھے یکسر بساط چشم پہ جن کو ابھی ابھرنا تھا وہ سارے خواب ...
ابھی کوہ ندا پر شور پھیلا ہے کسے آواز دیں کس کو پکاریں ہم ابھی سرسبز آوازوں کا موسم بھی نہیں آیا ابھی خاموشیوں کے ڈھیر سارے موم ہیں باقی جنہیں آواز کے زریں تصادم سے پگھلنا ہے کٹھالوں کے دہانوں سے گزر کر تہ بہ تہ جمنا بھی ہے ان کو مگر آواز کی ہلکی سی آہٹ بھی نہیں آتی نہ جانے کون سی ...