Khawar Naqeeb

خاور نقیب

خاور نقیب کے تمام مواد

3 غزل (Ghazal)

    جاگتی آنکھوں سے وابستہ دیا مانگے ہے

    جاگتی آنکھوں سے وابستہ دیا مانگے ہے وقت امید بصارت کی دعا مانگے ہے گرد آلود فضاؤں میں بھٹکتا موسم گمشدہ لمحہ سے خود اپنا پتا مانگے ہے عکس در عکس حقیقت کی لکیریں روشن خواب در خواب کوئی حسن ادا مانگے ہے اپنی مجروح نگاہوں کا سفر ہے جاری جستجو کرب مسافت کی دوا مانگے ہے منصف وقت ...

    مزید پڑھیے

    رنگ بھرتے جا رہے ہیں رفتہ رفتہ

    رنگ بھرتے جا رہے ہیں رفتہ رفتہ گل نکھرتے جا رہے ہیں رفتہ رفتہ عہد برنائی کے یہ اوراق رنگیں کیوں بکھرتے جا رہے ہیں رفتہ رفتہ سیڑھیاں شیشے کی پاؤں سنگ کے ہیں ہم اترتے جا رہے ہیں رفتہ رفتہ اب تو ہم اخبار میں چھپنے لگے ہیں نام کرتے جا رہے ہیں رفتہ رفتہ رہ گزار شوق ہے یہ زیست جس ...

    مزید پڑھیے

    پگھلتی شمع سے میں خود کو بے خبر کر لوں

    پگھلتی شمع سے میں خود کو بے خبر کر لوں غزل کو فکر کی حدت سے معتبر کر لوں سفر طویل ہے لیکن یوں مختصر کر لوں میں اپنی دورئ منزل کو ہم سفر کر لوں فسون شب کو نگاہوں سے متصل کر کے حدود خواب کو وابستۂ سحر کر لوں فلک پہ چاند ستارے حسد سے جلتے ہیں میں اپنی قوت پرواز مختصر کر لوں

    مزید پڑھیے

7 نظم (Nazm)

    عمر رفتہ کی نظم

    تتلیاں خوش رنگ کتنی اڑ رہی ہیں ایک بچہ انگلیوں کا جال پھیلائے کھڑا ہے اور اس کی انگلیوں سے کتنی میٹھی خواہشیں لپٹی ہوئی ہیں اس کو ہے معلوم تتلی چوستی ہے ساغر گل سے شکرآمیز رس وہ منتظر ہے تتلیاں خوش رنگ آئیں گی یقیناً زیر دام

    مزید پڑھیے

    نظم خیال

    ناشنیدہ ساعتوں کا منتظر ہوں انگنت گزرے ہوئے لمحوں کی چیخیں نخل جاں کی سبز شاخوں میں سرایت کر چکی ہیں میرے اندر ایک ہنگامہ بپا ہے ایک ایسی بے خودی طاری ہے مجھ پر میں اگلتا جا رہا ہوں بے پنہ زخمی صداؤں کی حرارت سوچتا ہوں اپنی یہ پر شور ہستی اک غنائی چاپ کو سننے کی خاطر بے پنہ زخمی ...

    مزید پڑھیے

    کینچلی

    خداوندا مری مجہول فطرت پر منڈھی ہے کینچلی کیسی کہ جس پر ناخن تدبیر کا جادو نہیں چلتا سبھی آلات جراحی کو میں نے آزمایا ہے مگر وہ کینچلی ہے ہستیٔ خود کی عجب عاشق چپک کر رہ گئی ہے جو مرے ٹھنڈے مساموں سے خداوندا مری مجہول فطرت کو حقیقت آشنا کر دے سراپا آئینہ کر دے

    مزید پڑھیے

    خواب بیداری

    کون ہے وہ جو گزرتا ہے فقط آنکھوں سے ہو کر آبنائے ذہن کی لہروں کو چھوتا اسپ آبی اور ستارہ مچھلیوں کو سات رنگوں کی قبائے خواب دیتا پھیل جاتا ہے وہ میرے سوچ ساگر کی تہوں میں کون ہے وہ جو مری شب ریز آنکھوں کو مجازی جال میں الجھا رہا ہے منظروں سے سچ کی موسیقی چرا کر منظروں کی روح کو بے ...

    مزید پڑھیے

    اے ستارو

    رات کی نمناک زلفوں میں ابھی کاذب سویرا ہو رہا ہے اے ستارو کیا نہیں معلوم تم کو آج میں ایوان ہستی سے نکل کر خواب زار زندگی میں منتشر ہوں نیند کی باد صبا آنکھوں سے ہٹ کر بہہ رہی ہے میرے اندر روح جوئے کہکشاں ہے جس سے میری ہستیٔ ظاہر ہے تاباں ہستیٔ باطن کے روشن آسماں پر متقی انوار میں ...

    مزید پڑھیے

تمام