لوگ کہتے ہیں بہت زندہ و پائندہ ہوں
لوگ کہتے ہیں بہت زندہ و پائندہ ہوں
کس کو معلوم ہے یہ سچ کہ ترا کشتہ ہوں
زندگی نام تنفس کا نہیں ہے جاناں
شکوہ بیجا ہے کہ بن تیرے بھی میں زندہ ہوں
مار ہی دیتی مجھے تیری یہ فرقت لیکن
کب تری یاد نے چھوڑا ہے کہ میں تنہا ہوں
ہے بجا تیری جدائی میں تو مر جانا تھا
میں مگر ہجر میں بھی وصل سے وابستہ ہوں
مرنے جینے کا سبب خوب ہے معلوم مجھے
سرد مہری ہے کسی کی جو میں اک لاشہ ہوں
بے رخی کا ہے وہ اک سنگ فقط سنگ ہے وہ
اور میں اس کے لیے شیشہ فقط شیشہ ہوں
وہ کہ ہے میرے لیے آتش دل اے خالدؔ
میں مگر اس کے لیے صرف دھویں جیسا ہوں