اپنا وجود میں نے اب اس طرح پاک کر لیا
اپنا وجود میں نے اب اس طرح پاک کر لیا
جل کر تمام عشق میں خود کو ہی خاک کر لیا
اس کے لیے تو کھیل تھا شوخی تھی یا مذاق تھا
میں نے ہی سب معاملہ اندوہ ناک کر لیا
اب کے جنوں میں سانحہ ایسا بھی ہو گیا کہ بس
دامن تو خیر چھوڑیئے سینہ ہی چاک کر لیا
اس سے نہ رابطہ رہے اس کی خوشی اسی میں تھی
اس کی خوشی کے واسطے خود کو ہلاک کر لیا
خوابوں سے وہ نکل کے اب آنکھوں میں جاگنے لگا
میں نے شدید عشق میں وہ انہماک کر لیا
ایسا تھا دل کا سانحہ وہ سنگ دل بھی رو پڑا
خالدؔ نے جب ذرا سے غم کا اشتراک کر لیا