Khalid Akhlaq

خالد اخلاق

خالد اخلاق کی غزل

    ابھی تو دل کے فقط پہلے پائیدان پہ ہو

    ابھی تو دل کے فقط پہلے پائیدان پہ ہو مگر یقین کے تم آخری نشان پہ ہو نہ جانے کون سی منزل میں عشق ہے میرا کسی دعا کی طرح تم مری زبان پہ ہو بلندیوں پہ توازن کی احتیاط رکھو یہ وہ جگہ ہے کہ تم ہر گھڑی ڈھلان پہ ہو ہماری نیند پھر آنکھوں سے ہو گئی رخصت کہ جیسے خواب کے ہم راہ پھر اڑان پہ ...

    مزید پڑھیے

    ترے خیال سے دلچسپیاں بناتے ہیں

    ترے خیال سے دلچسپیاں بناتے ہیں ورق پہ دل کے چلو تتلیاں بناتے ہیں سفر حیات کا بے حد حسین گزرے گا ہم اعتبار کی پگڈنڈیاں بناتے ہیں میں جانتا ہوں یہ دریا نہیں ہے صحرا ہے تو ریت پر ہی چلو مچھلیاں بناتے ہیں اٹھا ہی لی ہے جو دیوار تم نے آنگن میں تو بھائی اس میں چلو کھڑکیاں بناتے ...

    مزید پڑھیے

    عشق کے دور میں کچھ ایسے بھی پہلو آئے

    عشق کے دور میں کچھ ایسے بھی پہلو آئے ہنسنا چاہا تو مری آنکھوں میں آنسو آئے اک تو وہ پھول ہی کاغذ کے اٹھا لایا ہے اس پہ یہ ضد ہے کہ ان پھولوں سے خوشبو آئے تو کہاں تھا کہ تجھے ڈھونڈنے میرے گھر تک کبھی بھنورے کبھی تتلی کبھی جگنو آئے بس یہ ہی سوچ کے ہر وقت تجھے یاد کیا اپنی یادوں کے ...

    مزید پڑھیے

    خود کو مجنوں کبھی فرہاد کیا ہے میں نے

    خود کو مجنوں کبھی فرہاد کیا ہے میں نے وقت اپنا بڑا برباد کیا ہے میں نے کام یہ بھی مرے صیاد کیا ہے میں نے خوف دل سے ترا آزاد کیا ہے میں نے ایک پتھر صفت انساں سے محبت کر کے اے غم دل تجھے ایجاد کیا ہے میں نے شاخ دل پر تری یادوں کا بسیرا کیوں ہے ان پرندوں کو تو آزاد کیا ہے میں نے یوں ...

    مزید پڑھیے

    شفق ستارے دھنک کہکشاں بناتے ہوئے (ردیف .. ن)

    شفق ستارے دھنک کہکشاں بناتے ہوئے وہ اس زمیں پہ ملا آسماں بناتے ہوئے بھٹک نہ جائیں مرے بعد آنے والے لوگ میں چل رہا ہوں زمیں پر نشاں بناتے ہوئے چلو اب ان کی بھی بستی میں پھول بانٹ آئیں جو تھک چکے ہیں یہ تیر و کماں بناتے ہوئے مرے وجود کی رسوائیو تمہاری قسم ہے دل میں خوف پھر اک ...

    مزید پڑھیے

    ابھی تو دل کے فقط پہلے پائیدان پہ ہو

    ابھی تو دل کے فقط پہلے پائیدان پہ ہو مگر یقین کے تم آخری نشان پہ ہو نہ جانے کون سی منزل میں عشق ہے میرا کسی دعا کی طرح تم مری زبان پہ ہو بلندیوں پہ توازن کی احتیاط رکھو یہ وہ جگہ ہے کہ تم ہر گھڑی ڈھلان پہ ہو ہماری نیند پھر آنکھوں سے ہو گئی رخصت کہ جیسے خواب کے ہم راہ پھر اڑان پہ ...

    مزید پڑھیے

    نیند کے روشن باب کی اب بھی گنجائش ہے

    نیند کے روشن باب کی اب بھی گنجائش ہے آنکھوں میں اک خواب کی اب بھی گنجائش ہے گاؤں نما گھر شہر میں لاکھ بنایا لیکن آنگن در محراب کی اب بھی گنجائش ہے مجھ کو دکھ دینے والوں مایوس نہ ہونا آنکھوں میں سیلاب کی اب بھی گنجائش ہے رات کے دامن میں روشن ہیں کتنے جگنو لیکن اک مہتاب کی اب بھی ...

    مزید پڑھیے

    اس طرح سے جشن شیرازہ ہوا

    اس طرح سے جشن شیرازہ ہوا پھر غزل کا شعر اک تازہ ہوا خواب کتنے بھی حسیں ہوں خواب ہیں نیند سے جاگے تو اندازہ ہوا سارے غم چپ چاپ داخل ہو گئے دل میں جیسے چور دروازہ ہوا آبلہ پا میں تھکن یوں ضم ہوئی درد جیسے درد کا غازہ ہوا آج پھر مرہم لگایا آپ نے آج میرا زخم پھر تازہ ہوا نیند کی ...

    مزید پڑھیے

    کئی دنوں تک جب اپنے کمرے سے ہم نہ نکلے تو لوگ سمجھے

    کئی دنوں تک جب اپنے کمرے سے ہم نہ نکلے تو لوگ سمجھے کبھی کسی کو بہت ستاتے ہیں یہ اجالے تو لوگ سمجھے بدل گئے جب کسی کی غربت میں آج رستے تو لوگ سمجھے تھا جانا اسکول کام پر کیوں گئے وہ بچے تو لوگ سمجھے ہدف پہ منہ زور آندھیوں کے فقط ہمارے چراغ کب تھے بکھر گئے جب کسی گھروندے کے سارے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2