ابھی تو دل کے فقط پہلے پائیدان پہ ہو
ابھی تو دل کے فقط پہلے پائیدان پہ ہو مگر یقین کے تم آخری نشان پہ ہو نہ جانے کون سی منزل میں عشق ہے میرا کسی دعا کی طرح تم مری زبان پہ ہو بلندیوں پہ توازن کی احتیاط رکھو یہ وہ جگہ ہے کہ تم ہر گھڑی ڈھلان پہ ہو ہماری نیند پھر آنکھوں سے ہو گئی رخصت کہ جیسے خواب کے ہم راہ پھر اڑان پہ ...