Khalid Akhlaq

خالد اخلاق

خالد اخلاق کی غزل

    فیض یہ اٹھایا ہے بے زباں پرندوں سے

    فیض یہ اٹھایا ہے بے زباں پرندوں سے ہم نے سیکھ لیں میٹھی بولیاں پرندوں سے میں تو اڑ نہیں سکتا پھر بھی مطمئن ہے دل آسماں کی سنتا ہے داستاں پرندوں سے اے نئے زمانے کے ڈاکئے تو کیا جانے ہم وصول کرتے تھے چٹھیاں پرندوں سے ایک راہ اک منزل ایک ہی ہدف ان کا بھیڑ ہم سے بنتی ہے کارواں ...

    مزید پڑھیے

    عشق میں یہ نادانی کرنی پڑتی ہے

    عشق میں یہ نادانی کرنی پڑتی ہے اس کے نام جوانی کرنی پڑتی ہے انہیں بچانا پڑتا ہے تعبیروں سے خوابوں کی نگرانی کرنی پڑتی ہے آگ لگائی جا سکتی ہے پانی میں اک کوشش لا ثانی کرنی پڑتی ہے سنتے سنتے جب بچے سو جاتے ہیں مجھ کو ختم کہانی کرنی پڑتی ہے خواہشات کو ممکن ہے بس میں کرنا ان کی ...

    مزید پڑھیے

    فیض یہ اٹھایا ہے بے زباں پرندوں سے

    فیض یہ اٹھایا ہے بے زباں پرندوں سے ہم نے سیکھ لیں میٹھی بولیاں پرندوں سے میں تو اڑ نہیں سکتا پھر بھی مطمئن ہے دل آسماں کی سنتا ہے داستاں پرندوں سے اے نئے زمانے کے ڈاکئے تو کیا جانے ہم وصول کرتے تھے چٹھیاں پرندوں سے ایک راہ اک منزل ایک ہی ہدف ان کا بھیڑ ہم سے بنتی ہے کارواں ...

    مزید پڑھیے

    اس طرح سے جشن شیرازہ ہوا

    اس طرح سے جشن شیرازہ ہوا پھر غزل کا شعر اک تازہ ہوا خواب کتنے بھی حسیں ہوں خواب ہیں نیند سے جاگے تو اندازہ ہوا سارے غم چپ چاپ داخل ہو گئے دل میں جیسے چور دروازہ ہوا آبلہ پا میں تھکن یوں ضم ہوئی درد جیسے درد کا غازہ ہوا آج پھر مرہم لگایا آپ نے آج میرا زخم پھر تازہ ہوا نیند کی ...

    مزید پڑھیے

    اب اس قدر بھی تو بے آبرو نہ سمجھا جائے

    اب اس قدر بھی تو بے آبرو نہ سمجھا جائے کہ آرزو کو مری آرزو نہ سمجھا جائے تمہاری یاد کا ہر زخم رستا رہتا ہے میں با وضو ہوں مگر با وضو نہ سمجھا جائے میں اپنے آپ سے خلوت میں بات کرتا ہوں اسے مرض اے میرے چارہ جو نہ سمجھا جائے وہ اپنا عکس اگر مجھ میں دیکھ ہی نہ سکے تو آئنے کو مرے رو بہ ...

    مزید پڑھیے

    گمرہی سے یوں کمال آگہی تک آ گئے

    گمرہی سے یوں کمال آگہی تک آ گئے ہم بہت بھٹکے مگر تیری گلی تک آ گئے ان چراغوں کو بتا دو نیند سے جاگیں ذرا بڑھتے بڑھتے اب اندھیرے روشنی تک آ گئے زور سے ہنسنے لگے پھر عمر کے سب ماہ و سال ہم نے یہ پوچھا تھا کیا ہم زندگی تک آ گئے جو کہا میں نے وہاں تک کوئی بھی پہنچا نہیں ان سنی کرتے ...

    مزید پڑھیے

    گاؤں میں جھونپڑی سلامت ہے

    گاؤں میں جھونپڑی سلامت ہے سلطنت ہے مری ریاست ہے کوئی میٹھا سا درد ہے دنیا کوئی دلچسپ سی صعوبت ہے میں نے خاموشیاں سنی ہیں تری مجھ سے مت پوچھ کیا سماعت ہے یہ ہوا تجربہ دم آخر زندگی کتنی بے مروت ہے وصل کیا ہے یہ تم بتاؤ مجھے ہجر تو عشق کی عبادت ہے دکھ کسی ایک کا نہیں ہوتا یہ مرے ...

    مزید پڑھیے

    گاؤں میں جھونپڑی سلامت ہے

    گاؤں میں جھونپڑی سلامت ہے سلطنت ہے مری ریاست ہے کوئی میٹھا سا درد ہے دنیا کوئی دلچسپ سی صعوبت ہے میں نے خاموشیاں سنی ہیں تری مجھ سے مت پوچھ کیا سماعت ہے یہ ہوا تجربہ دم آخر زندگی کتنی بے مروت ہے وصل کیا ہے یہ تم بتاؤ مجھے ہجر تو عشق کی عبادت ہے دکھ کسی ایک کا نہیں ہوتا یہ مرے ...

    مزید پڑھیے

    چھوٹی چھوٹی باتوں میں آنکھیں بھر آتی ہیں

    چھوٹی چھوٹی باتوں میں آنکھیں بھر آتی ہیں یا تو ہم تھوڑے پاگل ہیں یا جذباتی ہیں سچا جھوٹا نیک اور بد ہیں مرے تعارف سب ایک ہی جسم میں کتنی روحیں گشت لگاتی ہیں سنا ہے اس تالاب کا پانی بڑا نشیلا ہے سنا ہے اس میں پریاں آ کر روز نہاتی ہیں کچھ تو درد دئے ہیں مجھ کو دنیا والوں نے لیکن ...

    مزید پڑھیے

    بہبود و مدد کی وہ سند سے نکل آئے

    بہبود و مدد کی وہ سند سے نکل آئے کچھ پیٹ غریبوں کی رسد سے نکل آئے ان کو میں کھلی آنکھوں سے اب دیکھ رہا ہوں کچھ خواب مری نیند کی زد سے نکل آئے بچپن کی حدیں توڑ دے چل عمر کے ہمراہ اب تو ترے بچے تیرے قد سے نکل آئے رستے میں زمانے نے بچھا رکھے تھے کانٹے ہم اپنے ارادوں کی مدد سے نکل ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2