عشق کے دور میں کچھ ایسے بھی پہلو آئے

عشق کے دور میں کچھ ایسے بھی پہلو آئے
ہنسنا چاہا تو مری آنکھوں میں آنسو آئے


اک تو وہ پھول ہی کاغذ کے اٹھا لایا ہے
اس پہ یہ ضد ہے کہ ان پھولوں سے خوشبو آئے


تو کہاں تھا کہ تجھے ڈھونڈنے میرے گھر تک
کبھی بھنورے کبھی تتلی کبھی جگنو آئے


بس یہ ہی سوچ کے ہر وقت تجھے یاد کیا
اپنی یادوں کے تعاقب میں کبھی تو آئے


میرا صبر اور ترے ظلم و ستم تول سکے
کاش ایجاد میں ایسا بھی ترازو آئے


تو ہی اس خواب کی تعبیر بتا کیوں خالدؔ
جسم سے میرے ترے جسم کی خوشبو آئے