ترے خیال سے دلچسپیاں بناتے ہیں

ترے خیال سے دلچسپیاں بناتے ہیں
ورق پہ دل کے چلو تتلیاں بناتے ہیں


سفر حیات کا بے حد حسین گزرے گا
ہم اعتبار کی پگڈنڈیاں بناتے ہیں


میں جانتا ہوں یہ دریا نہیں ہے صحرا ہے
تو ریت پر ہی چلو مچھلیاں بناتے ہیں


اٹھا ہی لی ہے جو دیوار تم نے آنگن میں
تو بھائی اس میں چلو کھڑکیاں بناتے ہیں


کھلے گا اس طرح قسمت کا بند دروازہ
تپا کے عزم کو ہم چابیاں بناتے ہیں


وہ دوڑنے کا تصور بھی کر نہیں سکتے
جو اپنے ذہن میں بیساکھیاں بناتے ہیں


ہماری راہ میں ہوتی ہے جو کبھی حائل
اسی چٹان سے اب سیڑھیاں بناتے ہیں