Khalid Akhlaq

خالد اخلاق

خالد اخلاق کے تمام مواد

19 غزل (Ghazal)

    فیض یہ اٹھایا ہے بے زباں پرندوں سے

    فیض یہ اٹھایا ہے بے زباں پرندوں سے ہم نے سیکھ لیں میٹھی بولیاں پرندوں سے میں تو اڑ نہیں سکتا پھر بھی مطمئن ہے دل آسماں کی سنتا ہے داستاں پرندوں سے اے نئے زمانے کے ڈاکئے تو کیا جانے ہم وصول کرتے تھے چٹھیاں پرندوں سے ایک راہ اک منزل ایک ہی ہدف ان کا بھیڑ ہم سے بنتی ہے کارواں ...

    مزید پڑھیے

    عشق میں یہ نادانی کرنی پڑتی ہے

    عشق میں یہ نادانی کرنی پڑتی ہے اس کے نام جوانی کرنی پڑتی ہے انہیں بچانا پڑتا ہے تعبیروں سے خوابوں کی نگرانی کرنی پڑتی ہے آگ لگائی جا سکتی ہے پانی میں اک کوشش لا ثانی کرنی پڑتی ہے سنتے سنتے جب بچے سو جاتے ہیں مجھ کو ختم کہانی کرنی پڑتی ہے خواہشات کو ممکن ہے بس میں کرنا ان کی ...

    مزید پڑھیے

    فیض یہ اٹھایا ہے بے زباں پرندوں سے

    فیض یہ اٹھایا ہے بے زباں پرندوں سے ہم نے سیکھ لیں میٹھی بولیاں پرندوں سے میں تو اڑ نہیں سکتا پھر بھی مطمئن ہے دل آسماں کی سنتا ہے داستاں پرندوں سے اے نئے زمانے کے ڈاکئے تو کیا جانے ہم وصول کرتے تھے چٹھیاں پرندوں سے ایک راہ اک منزل ایک ہی ہدف ان کا بھیڑ ہم سے بنتی ہے کارواں ...

    مزید پڑھیے

    اس طرح سے جشن شیرازہ ہوا

    اس طرح سے جشن شیرازہ ہوا پھر غزل کا شعر اک تازہ ہوا خواب کتنے بھی حسیں ہوں خواب ہیں نیند سے جاگے تو اندازہ ہوا سارے غم چپ چاپ داخل ہو گئے دل میں جیسے چور دروازہ ہوا آبلہ پا میں تھکن یوں ضم ہوئی درد جیسے درد کا غازہ ہوا آج پھر مرہم لگایا آپ نے آج میرا زخم پھر تازہ ہوا نیند کی ...

    مزید پڑھیے

    اب اس قدر بھی تو بے آبرو نہ سمجھا جائے

    اب اس قدر بھی تو بے آبرو نہ سمجھا جائے کہ آرزو کو مری آرزو نہ سمجھا جائے تمہاری یاد کا ہر زخم رستا رہتا ہے میں با وضو ہوں مگر با وضو نہ سمجھا جائے میں اپنے آپ سے خلوت میں بات کرتا ہوں اسے مرض اے میرے چارہ جو نہ سمجھا جائے وہ اپنا عکس اگر مجھ میں دیکھ ہی نہ سکے تو آئنے کو مرے رو بہ ...

    مزید پڑھیے

تمام