خود کو مجنوں کبھی فرہاد کیا ہے میں نے

خود کو مجنوں کبھی فرہاد کیا ہے میں نے
وقت اپنا بڑا برباد کیا ہے میں نے


کام یہ بھی مرے صیاد کیا ہے میں نے
خوف دل سے ترا آزاد کیا ہے میں نے


ایک پتھر صفت انساں سے محبت کر کے
اے غم دل تجھے ایجاد کیا ہے میں نے


شاخ دل پر تری یادوں کا بسیرا کیوں ہے
ان پرندوں کو تو آزاد کیا ہے میں نے


یوں کھلایا ہے ترے دل میں محبت کا گلاب
دشت جیسے کوئی آباد کیا ہے میں نے


اک عبادت سے کہاں کم ہے محبت میری
تجھ کو آیت کی طرح یاد کیا ہے میں نے


تجھ کو دنیا کے تماشوں سے بچانے کے لیے
جانے کیا کیا مری اولاد کیا ہے میں نے


حکمرانی پہ جسے ناز بہت تھا خالدؔ
اس کو آمادۂ فریاد کیا ہے میں نے